قانون قدیم کے کہ جو جسمانی اور روحانی طور پر ابتدا سے چلا آتا ہے قرآن شریف کو خلق اللہ کی اصلاح کے لئے نازل کیا اور ضرور تھا کہ ایسے وقت میں قرآن شریف نازل ہوتا کیونکہ اس پرظلمت زمانہ کی حالت موجودہ کوؔ ایسی عظیم الشان کتاب اور ایسے عظیم الشان رسول کی حاجت تھی اور ضرورتِ حقّہ اس بات کی متقاضی ہورہی تھی کہ اس تاریکی کے وقت میں جو تمام دنیا پر چھا گئی تھی اور اپنے انتہائی درجہ تک پہنچ چکی تھی آفتاب صداقت کا طلوع کرے کیونکہ بجز طلوع اُس آفتاب کے ہرگز ممکن نہ تھا کہ ایسی اندھیری رات خودبخود روز روشن کی صورت پکڑ جائے اور اسی کی طرف ایک دوسرے مقام میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ الہامی کتاب یا کسی ؔ دوسری کتاب سے اسی قدر لطائف و نکات و خواص ایجاد کرکے دکھلاؤ اور اگر تمام قرآن شریف کے مقابلہ پر نہیں تو صرف بطور نمونہ سورۃ فاتحہ کے مقابلہ پر جس کے کمالات کسی قدر اسی حاشیہ میں بیان کئے گئے ہیں کسی اور کتاب سے نکال کر پیش کرو کا غم پیش آگیا تھا جس کے تدارک کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ اور بجز حرج و نقصان اٹھانے کے اور کوئی سبیل نمودار نہ تھی اسی روز شام کے قریب یہ عاجز اپنے معمول کے مطابق جنگل میں سیر کو گیا اور اس وقت ہمراہ ایک آریہ ملا وامل نامی تھا جب واپس آیا تو گاؤں کے دروازہ کے نزدیک یہ الہام ہوا ننجیک من الغمّ۔ پھر دوبارہ ہوا ننجیک من الغمّ الم تعلم ان اللّٰہ علی کل شیء قدیر۔ یعنی ہم تجھے اس غم سے نجات دیں گے ضرور نجات دیں گے کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ چنانچہ اُسی قدم پر جہاںؔ الہام ہوا تھا۔ اُس آریہ کو اس الہام سے اطلاع دی گئی تھی اور پھر خدا نے وہ تینوں طور کا غم دور کردیا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ اور ایک اتفاقات عجیبہ سے یہ بات ہے کہ جس وقت شہاب الدین موحد نے مولوی صاحبان ممدوحین کی رائے بیان کی اسی رات انگریزی میں ایک الہام ہوا کہ جو شہاب الدین کو سنایا گیا۔ اور وہ یہ ہے۔ دوہ آل مین شڈبی اینگری بٹَ گوڈ اِز وِدیو۔ ہی شیل