اور دنیا کی عزتوں اور دنیا کی راحتوں اور دنیا کے مال و متاع کے اور کچھ ان کا مقصد نہیں رہاؔ تھا اور خدائے تعالیٰ کی محبت اور اس کے ذوق اور شوق سے بکُلّی بے بہرہ اور بے نصیب ہوگئے تھے اور رسوم اور عادت کو مذہب سمجھا گیا تھا پس خدا نے جس کا یہ قانون قدرت ہے کہ وہ شدتوں اور صعوبتوں کے وقت اپنے عاجز بندوں کی خبرلیتا ہے اور جب کسی سختی سے جیسے اِمساکِ باراں وغیرہ سے اس کے بندے قریب ہلاکت کے ہوجاتے ہیں بارانِ رحمت سے اُن کی مشکل کشائی کرتا ہے نہ چاہا کہ خلق اللہ ایسی بلا میں مبتلا رہے جس کا نتیجہ ہلاکت دائمی اور ابدی ہے سو اُس نے بہ تعمیل اپنے ظاہر کریں انوارِ قرآنی پر پردہ ڈال نہیں سکتے۔ اُن کے جواب میں یہی کہنا کافی ہے کہ اگر مسلمانوں نے خود اپنی ہی زیرکی سے قرآن شریف میں انواع و اقسام کے لطائف و نکات و خواص ایجاد کر لئے ہیں اور اصل میں موجود نہیں تو تم بھی اُن کے مقابلہ پر کسی اپنی وہ آریہ تکذیب اور استہزاء سے پیش آیا۔ اس وقت جس قدر قلق اور کرب گزرا بیان میں نہیں آسکتا۔ کیونکہ قریب قیاس معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ایک گروہ کثیر کا بیان جن میں بے تعلق آدمی بھی تھے خلاف واقعہ ہو اس سخت حزن اور غم کی حالت میں نہایت شدت سے الہام ہوا کہ جو آہنی میخ کی طرح دل کے اندر داخل ہوگیا اور وہ یہ تھا۔ ڈگری ہوگئی ہے مسلمان ہے۔ یعنی کیا تو باور نہیں کرتا اور باوجود مسلمان ہونے کے شک کو دخل دیتا ہے۔ آخر تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ فی الحقیقت ڈگری ہی ہوئی تھی اور فریق ثانی نے حکم کے سُننے میں دھوکا کھایا تھا۔ اسی طرح فی الواقعہ بلا مبالغہ صدہا الہام ہیں کہ جو فلق صبح کی طرح پورے ہوگئے اور بہت سے الہاماتؔ بطور اسرار ہیں جن کو یہ عاجز بیان نہیں کرسکتا۔ بارہا عین مخالفوں کی حاضری کے وقت میں ایسا کھلا کھلا الہام ہوا ہے جس کے پورا ہونے سے مخالفوں کو بجز اقرار کے اور کوئی راہ نظر نہیں آیا۔ ابھی چند روز کا ذکر ہے کہ یکدفعہ بعض امور میں تین طرح