سوچیں اور سمجھیں۔ ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف کی ضرورت نزول کی اور اس کے منجانب اللہ ہونے کی یہ دلیل پیش کی ہے کہ قرآن شریف ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب تمام اُمتوں نے اُصولِ حقہ کو چھوڑ دیا تھا اور کوئی دین روئے زمین پر ایسا نہ تھا کہ جو خدا شناسی اور پاک اعتقادی اور نیک عملی پر قائم اور بحال ہوتا بلکہ سارے دین بگڑگئے تھے اور ہریک مذہب میں طرح طرح کا فساد دخل کرگیا تھا اور خود لوگوں کے طبائع میں دنیا پرستی کی محبت اس قدر بھر گئی تھی کہ بجز دنیا اور دنیا کے ناموں اور دنیاکے آراموں خواص عجیبہ اس کے مسلمانوں کی کتابوں میں اندراج پائے ہیں یہ سب انہیں کے فہم کی تیزی ہے اور انہیں کی طبیعتوں کے ایجادات ہیں ورنہ دراصل قرآن لطائف و نکات و خواصِ عجیبہ سے خالی ہے مگرؔ ایسے لوگ بجز اس کے کہ اپنا ہی حمق اور خبث کاہریک حال میں حامی ہے نماز کے اول یا عین نماز میں بذریعہ الہام یہ بشارتؔ دی لا تخف انک انت الاعلٰی اور پھر فجر کو ظاہر ہوگیا کہ وہ خبر َ بری ہونے کی سراسر جھوٹی تھی اور انجام کار وہی ظہور میں آیا کہ جو اس عاجز کو خبر دی گئی تھی جس کو شرمپت نامی ایک آریہ اور چند دوسرے لوگوں کے پاس قبل از وقوع بیان کیا گیا تھا کہ جو اب تک قادیان میں موجود ہیں۔ پھر ایک اور ایسا ہی پروحشت ماجرا گزرا جس کا قصہ اس سے بھی عجیب تر ہے اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ ایک مقدمہ میں کہ اس عاجز کے والد مرحوم کی طرف سے اپنی زمینداری حقوق کے متعلق کسی رعیت پر دائر تھا اس خاکسار پر خواب میں یہ ظاہر کیا گیا کہ اس مقدمہ میں ڈگری ہوجائے گی چنانچہ اس عاجز نے وہ خواب ایک آریہ کو کہ جو قادیان میں موجود ہے بتلا دی پھر بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ اخیر تاریخ پر صرف مدعا علیہ معہ اپنے چند گواہوں کے عداؔ لت میں حاضر ہوا اور اس طرف سے کوئی مختار وغیرہ حاضر نہ ہوا۔ شام کو مدعا علیہ اور سب گواہوں نے واپس آکر بیان کیا کہ مقدمہ خارج ہوگیا۔ اِس خبر کو سنتے ہی