اندھیرے میں بیٹھنے والے اُس روشنی سے آہستہ آہستہ منتفع ہوجائیں اور جو یکدفعی انتقال میں حیرت ووحشت مُتصوّر ہے وہ بھی نہ ہو سو اسی طرح جب دنیا پر روحانی تاریکی طاری ہوتی ہے تو خلقت کو روشنی سے منتفع کرنے کے لئے اور نیز روشنی اور تاریکی میں جو فرق ہے وہ فرق ظاہر کرنے کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے آفتابِ صداقت نکلتا ہے اور پھر وہ آہستہ آہستہ دنیا پر طلوع کرتا جاتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کا یہ قانون قدرت ہے کہ جب زمین مر جاتی ہے تو وہ نئے سرے زمین کو زندہ کرتا ہے۔ ہم ؔ نے کھول کر یہ نشان بتلائے ہیں تاہو کہ لوگ
بعض شریر اور کینہ پرور آدمی جنہوں نے ضد اور نفسانیت پر مضبوطی سے قدم مار رکھا ہے۔ اور جن کو تعصب کی ُ تند اندؔ ھیری نے بالکل اندھا کردیا ہے وہ لوگوں کو یہ کہہ کر بہکاتے ہیں کہ جس قدر لطائف و نکات قرآن کے مسلمان لوگ ذکر کرتے ہیں اور جس قدر
کرب دور ہوا۔ تفصیل اِس کی یہ ہے کہ اِس رؤیا صادقہ میں کہ ایک کشفِؔ صریح کی قسم تھی۔ یہ معلوم کرایا گیا تھا کہ ایک کھتری ہندو بشمبرداس نامی جو اب تک قادیان میں بقید حیات موجود ہے مقدمہ فوجداری سے بری نہیں ہوگا مگر آدھی قید تخفیف ہوجائے گی لیکن اُس کا دوسرا ہم قید خوشحال نامی کہ وہ بھی اب تک قادیان میں زندہ موجود ہے ساری قید بھگتے گا سو اِس جُزو کشف کی نسبت یہ ابتلا پیش آیا کہ جب چیف کورٹ سے حسب پیشگوئی ایں عاجز مثل مقدمہ مذکورہ واپس آئی تو متعلقین مقدمہ نے اس واپسی کو بریت پر حمل کرکے گاؤں میں یہ مشہور کردیا کہ دونوں ملزم جرم سے بری ہوگئے ہیں مجھ کو یاد ہے کہ رات کے وقت میں یہ خبر مشہور ہوئی اور یہ عاجز مسجد میں عشاء کی نماز پڑھنے کو طیار تھا کہ ایک نے نمازیوں میں سے بیان کیا کہ یہ خبر بازار میں پھیل رہی ہے اور ملزمان گاؤں میں آگئے ہیں۔ سو چونکہ یہ عاجز علانیہ لوگوں میں کہہ چکا تھا کہ دونوں مجرم ہرگز جرم سے بری نہیں ہوں گے اس لئے جو کچھ غم اور قلق اور کرب اس وقت گزرا سو گزرا۔ تب خدا نے کہ جو اِس عاجز بندہ