اختلاف نہیں۔ اور پھر فرمایا کہ کیا تُو خدا کی طرف دیکھتا نہیں کہ وہ کیونکر سایہ کو لمبا کھینچتا ہے یہاں تک کہ تمام زمین پر تاریکی ہی دکھائی دیتی ہے اور اگر وہ چاہتا تو ہمیشہ تاریکی رکھتا اور کبھی روشنی نہ ہوتی لیکن ہم آفتاب کو اس لئے نکالتے ہیں کہ تا اس بات پر دلیل قائم ہوکہ اُس سے پہلے تاریکی تھی یعنی تا بذریعہ روشنی کے تاریکی کا وجود شناخت کیا جائے کیونکہ ضد کے ذریعہ سے ضد کا پہچاننا ؔ بہت آسان ہوجاتا ہے اور روشنی کا قدرومنزلت اُسی پرکھلتا ہے کہ جو تاریکی کے وجود پر علم رکھتا ہو اور پھر فرمایا کہ ہم تاریکی کو روشنی کے ذریعہ سے تھوڑا تھوڑا دور کرتے جاتے ہیں تا
سے باز نہ آوے تو ؔ ایسے بے حیا منقلب الفطرت کا اس دنیا میں علاج نہیں ہوسکتا اس کے لئے وہی علاج ہے جس کا خدا نے اپنے قول فیصل میں وعدہ فرمایا ہے
والدہ کا الہام صرف شکوؔ ک اور شبہات کا ذخیرہ تھا اور قطعی اور یقینی نہ تھا تو ان کو کب جائز تھا کہ وہ کسی بے گناہ کی جان کو خطرہ میں ڈالتے یا ہلاکت تک پہنچاتے یا کوئی دوسرا ایسا کام کرتے جو شرعاً و عقلاً جائز نہیں ہے۔ آخر یقینی علم ہی تھا جس کے باعث سے وہ کام کرنا ان پر فرض ہوگیا تھا اور وہ امور اُن کے لئے روا ہوگئے کہ جو دوسروں کے لئے ہرگز روا نہیں۔ پھر ماسوا اِس کے ذرا انصافاًسوچنا چاہئیے کہ کوئی امر مشہود و موجود کہ جو بپایہ صداقت پہنچ چکا ہو اور تجاربِ صحیحہ کے رو سے راست راست ثابت ہوتا ہو صرف ظنی خیالات سے متزلزل نہیں ہوسکتا وَالظَّنُّ لَا یُغْنِیْ عَنِ الْحَقِّ شَیْءًا۔ سو اس عاجز کے الہامات میں کوئی ایسا امر نہیں ہے جو زیر پردہ اور مخفی ہو بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ جو صدہا امتحانوں کی بوتہ میں داخل ہوکر سلامت نکلی ہے اور خداوند کریم نے بڑے بڑے تنازعات میں فتح نمایاں بخشی ہے اس مقام میں یاد آیا کہ جو رویا صادقہ حصہ سوم میں ایک ہندوؔ کے مقدمہ کے بارہ میں لکھی گئی ہے اس میں بھی ایک عجیب نزاع و انکار کے موقع پر الہام ہوا تھا جس سے ایک بڑا قلق اور