اِسی طرح وہ انسان کی روحانی پیدائش پر بھی قادر تھا یعنی اس کا قانون قدرت روحانی پیدائش میں بعینہٖ جسمانی پیدائش کی طرح ہے کہ اول وہ ضلالت کے وقت میں کہ جو عدم کا حکم رکھتا ہے کسی انسان کو روحانی طور پر اپنے ہاتھ سے پیداؔ کرتا ہے اور پھر اس کے متبعین کو کہ جو اس کی ذُرّیت کا حکم رکھتے ہیں بہ برکت متابعت اس کی کے روحانی زندگی عطا فرماتا ہے سو تمام مرسل روحانی آدم ہیں اور اُن کی اُمت کے نیک لوگ اُن کی روحانی نسلیں ہیں اور روحانی اور جسمانی سلسلہ بالکل آپس میں تطابق رکھتا ہے اور خدا کے ظاہری اور باطنی قوانین میں کسی نوع کا اعجازِ قرآنی کے ملزم کرنے کے لئے آپ فرما دیا ہے۔ اب اگر کوئی ملزم اور لاجواب رہ کر پھر بھی قرآن شریف کی بلاغت بے مثل سے منکر رہے اور بیہودہ گوئی اور ژاژ خائی سو اب سوچنا چاہئیے کہ اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اُمت محمدیہ کے کامل متبعین اُن لوگوں کی نسبت بوجہ اولیٰ ملہم و محدّث ہونے چاہیئیں کیونکہ وہ حسب تصریح قرآن شریف خیر الامم ہیں۔ آپ لوگ کیوں قرآن شریف میں غور نہیں کرتے اور کیوں سوچنے کے وقت غلطی کھا جاتے ہیں کیا آپ صاحبوں کو خبر نہیں کہ صحیحین سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی۱للہ علیہ وسلم اِس اُمت کے لئے بشارت دے چکے ہیں کہ اِس اُمت میں بھی پہلی اُمتوں کی طرح محدّث پیدا ہوں گے اور محدث بفتح دال وہ لوگ ہیں جن سے مکالمات و مخاطبات الٰہیہ ہوتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ ابن عباس کی قراء ت میں آیا ہے وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی ولا محدث الا اذا تمنّٰی القی الشیطان فی امنیتہ فینسخ اللّٰہ ما یلقی الشیطان ثم یحکم اللّٰہ اٰیاتہ۔ پس اس آیت کے رو سے بھی جس کو بخاری نے بھی لکھا ہے محدّث کا الہام یقینی اور قطعی ثابت ہوتا ہے جس میں دخل شیطان کا قائم نہیں رہ سکتا اور خود ظاہر ہے کہ اگر خضر اور موسیٰ کی