قوم سے مخصوص نہ ہوں اور تاہریک طرف سے اور ہریک گروہ اور قوم سے تکالیفِ شاقہ اٹھا کر اس اجر عظیم کے مستحق ٹھہرجائیں کہ جو دوسرے نبیوں کو نہیں ملے گا۔ اور پھر فرمایا کہ خدا وہ ہے کہ جو راتؔ کے بعد دن اور دن کے بعد رات لاتا ہے تا جس نے یاد کرنا ہو وہ یاد کرے یا شکر کرنا ہو تو شکر کرے یعنی دن کے بعد رات کا آنا اور رات کے بعد دن کا آنا اس بات پر ایک نشان ہے کہ جیسے ہدایت کے بعد ضلالت اور غفلت کا زمانہ آجاتا ہے ایسا ہی خدا کی طرف سے یہ بھی مقرر ہے کہ ضلالت اور غفلت کے بعد ہدایت کا زمانہ آتا ہے اور پھر فرمایا کہ خدا وہ ذات قادر مطلق ہے جس نے بشر کو اپنی قدرتِ کاملہ سے پیدا کیا پھر اُس کے لئے نسل اور رشتہ مقرر کردیا یاد رکھو کہ ہرگز بنا نہ سکو گے سو اُس آگ سے ڈرو جو کافروں کے ؔ لئے طیار ہے۔ جس کا ایندھن کافر آدمی اور ان کے بت ہیں جونارِ جہنم کو اپنے گناہوں اور شرارتوں سے افروختہ کررہے ہیں یہ قول فیصل ہے کہ جو خدائے تعالیٰ نے منکرینِ روایت کیا ہے اگر الہام نہیں تھا تو اور کیا تھا اور پھر اُن کی یہ آواز کہ یا ساریہ الجبل الجبل مدینہ میں بیٹھے ہوئے مونہہ سے نکلنا اور وہی آواز قدرتِ غیبی سے ساریہ اور اس کے لشکر کو دور دراز مسافت سے سنائی دینا اگر خارقِ عادت نہیں تھی تو اور کیا چیز تھی۔ اسی طرح جناب علی مرتضٰی کرم اللہ وجہہ کے بعض الہامات و کشوف مشہور و معروف ہیں ماسوا اس کے میں پوچھتا ہوں کہ کیا خدائے تعالیٰ کا قرآن شریف میں اس بارہ میں شہادت دینا تسلی بخش امر نہیں ہے کیا اس نے صحابہ کرام کے حق میں نہیں فرمایا 3۔۱؂ پھر جس حالت میں خدائے تعالیٰ اپنے نبی کریم کے اصحاب کو امم سابقہ سے جمیع کمالات میں بہتر و بزرگتر ٹھہراتا ہے اور دوسری طرف بطور مشتے نمونہ از خروارے پہلی اُمتوں کے کاملین کا حال بیان کرکے کہتا ہے کہ مریم صدیقہ والدہ عیسیٰ اور ایسا ہی والدہ حضرت موسیٰ اور نیز حضرت مسیح کے حواری اورؔ نیز خضر جن میں سے کوئی بھی نبی نہ تھا یہ جب ملہم من اللہ تھے اور بذریعہ وحی اعلام اسرار غیبیہ سے مطلع کئے جاتے تھے