اگر خدا صالح لوگوں کے ذریعہ سے گمراہوں کا تدارک نہ فرماتا اور بعض کو بعض سے دفعہ* نہ کرتا تو زمین بگڑ جاتی پر یہ خدا کا فضل ہے کہ وہ گمراہی کے پھیلنے کے وقت اپنی طرف سے ہادی بھیجتا ہے کیونکہ تفضل اور احسان اُس کی عادت ہے اورتجھ کو ہم نے اس لیے بھیجا ہے کہ تمام عالم پر نظرِ رحمت کریں اور نجات کا راستہ اُن پر کھول دیں اور تا تُو لوگوں کو کہ غفلت کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں حق کی طرف توجہ دلاوے اوراُن کو خبردار کرے۔ کیا تُو یہ خیال کرتا ہے کہ اکثر لوگ اُن میں سے سُنتے اور سمجھتے ہیں نہیں یہؔ تو چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی بدتر اور اگر خدا ان لوگوں سے ہر موقعہ پر ثابت کرتے چلے جاتے ہیں228تو اُس پر قرآنِ شریف کی شانِ بلند جس سے انسانی طاقتیں مقابلہ نہیں کرسکتیں ایسی وضاحتؔ سے کھل سکتی ہے جس پر زیادت متصور نہیں اور اگر باوجود مشاہدہ اِن کمالات کے پھر بھی کسی کور باطن پر عدیم المثالی اُس کلامِ مقدس کی مشتبہ رہے تو اُس کا علاج قرآنِ شریف نے آپ ہی ایسا کیا 228یہ ؔ عاجز اِس مقام تک لکھ چُکا تھا کہ شہاب الدین نامی ایک شخص موحّد ساکن تھہ غلام نبی نے آکر بیان کیا کہ مولوی غلام علی صاحب اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری اور مولوی عبدالعزیز صاحب اور بعض دوسرے مولوی صاحبان اس قسم کے الہام سے کہ جو رسولوں کے وحی سے مشابہ ہے باصرارِ تمام انکار کررہے ہیں بلکہ اِن میں سے بعض مولوی صاحباؔ ن مجانین کے خیالات سے اُس کو منسوب کرتے ہیں۔ اور اُن کی اِس بارہ میں حجت یہ ہے کہ اگر یہ الہام حق اور صحیح ہے تو صحابہ جناب پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم اِس کے پانے کے لئے احق اور اَولیٰ تھے حالانکہ اُن کا پانا متحقق نہیں۔ اب یہ احقر عباد عرض کرتا ہے کہ اگر یہ اعتراض جو شہاب الدین موحّد نے مولوی صاحبوں کی طرف سے بیان کیا ہے حقیقت میں اُنہیں کے مونہہ سے نکلا ہے تو بجواب اِس کے ہر یک طالبِ صادق کو اور نیز حضراتِ ممدوحہ کو یاد رکھنا چاہیئے کہ عدم علم سے عدمِ شَے لازم نہیں آتا۔ کیا ممکن نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اِس قِسم کے