ان کے گناہوں کا مواخذہ کرتا تو زمین پر ایک بھی زندہ نہ چھوڑتا اور خدا وہ ذات کریم و رحیم ہے کہ جو بارش سے پہلے ہواؤں کو چھوڑتا ہے پھر ہم ایک پاک پانی آسمان سے اتارتے ہیں تا اس سے مری ہوئی بستی کو زندہ کریں اور پھر بہت سے آدمیوں اور ان کے چارپایوں کو پانی پلاویں اور ہم پھیر پھیر کر مثالیں بتلاتے ہیں تا لوگ یاد کرلیں کہ نبیوں کے بھیجنے کا یہی اصول ہے اور اگر ہم چاہتے تو ہریک بستی کے لئے جُدا جُدا رسول بھیجتے مگر یہ اس لئے کیا گیا کہ تا تجھ سے بھاری کوششیں ظہور میں آویں یعنی جب ایک مرد ہزاروں کا کام کرے گا تو بلاشبہ وہ بڑا اجر پائے گا اور الہامات پائے ہوں مگر مصلحتِ وقت سے عام طور پر ان کو شائع نہیں کیا اور خدائے تعالیٰ کو ہریک نئے زمانہ میں نئے نئے مصالحہ ہیں پس نبوت کے عہد میں مصلحت ربانی کا یہی تقاضا تھا کہ جو غیر نبی ہے اُس کے الہامات نبی کی وحی کی طرح قلمبند نہ ہوں تا غیر نبی کے کلام سے تداخل واقعہ نہ ہوجائے لیکن اُس زمانہ کے بعد جس قدر اولیاء اور صاحب کمالات باطنیہ گزرے ہیں اُن سب کے الہامات مشہور و متعارف ہیں کہ جوہریک عصر میں قلمبند ہوتے چلے آئے ہیں اس کی تصدیق کے لئے شیخ عبدالقادر جیلانی اور مجدد الف ثانی کےؔ مکتوبات اور دوسرے اولیاء اللہ کی کتابیں دیکھنی چاہئیں کہ کس کثرت سے ان کے الہامات پائے جاتے ہیں بلکہ امام ربانی صاحب اپنے مکتوبات کی جلد ثانی میں جو مکتوب پنجاہ و یکم ہے اس میں صاف لکھتے ہیں کہ غیر نبی بھی مکالمات و مخاطبات حضرتِ احدیّت سے مشرّف ہوجاتا ہے اور ایسا شخص محدّث کے نام سے موسوم ہے اور انبیاء کے مرتبہ سے اُس کا مرتبہ قریب واقعہ ہوتا ہے ایسا ہی شیخ عبدالقادر جیلانی