یہ نہیں کہ فضول اور بے فائدہ اور بے وقت نازل ہوا ہے اے اہل کتاب تمہارے پاس ایسے وقت میں ہمارا رسول آیا ہے کہ جبکہ ایک مدت سے رسولوں کا آنا منقطع ہو رہا تھا۔ سو وہ رسول َ فترت کے زمانہ میں آکر تم کو وہ راہِ راست بتلاتا ہے جس کو تم بھول گئے تھے تا تم یہ نہ کہو کہ ہم یونہی گمراہ رہے اور خدا کی طرف سے کوئی بشیر و نذیر نہ آیا جو ہم کو متنبہ کرتا ۔ سو اب سمجھو کہ وہ بشیر نذیر جس کی ضرورت تھی آگیا اور خدا جو ہر چیز پر قادر ہے اُس نے تم کو گمراہ پاکر اپنا کلام اور اپنا رسول بھیج دیا۔ اور تم آگ کے گڑؔ ھے کے کنارہ تک پہنچ چکے تھے سو خدا نے تم کو اے ایماندارو نجات دی اسی طرح وہ اپنے نشان کو بیان فرماتا ہے تا تم ہدایت پا جاؤ اور تا عذاب کے نازل ہونے پر گمراہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اے خداتو نے قبل از عذاب اپنا رسول کیوں نہ بھیجا تا ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور مومن بن جاتے اور
پر دلالت کررہے ہیں اُن کی نظیر اپنے مذہب میں ؔ پیش نہ کرسکیں تو پھر یہی لازم ہے کہ جھوٹ کو چھوڑ کر سچے مذہب کو قبول کرلیں۔
اب پھر ہم اپنی اصل تقریر کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ جس قدر میں نے اب تک لطائف و معارف و خواص سورۃ فاتحہ لکھے ہیں وہ بدیہی طور پر بے مثل و مانند ہیں مثلًا جو شخص ذرا منصف بن کر اول اُن صداقتوں کے اعلیٰ مرتبہ پر غور کرے جو کہ سورۃ فاتحہ میں جمع ہیں اور پھر اس لطائف اور نکات پر نظر ڈالے جن پر سورہ ممدوحہ مشتمل ہے اور پھر حسنِ بیان اور ایجازِ کلام کو مشاہدہ کرے کہ کیسے معانی کثیرہ کو الفاظ قلیلہ میں بھرا ہؤا ہے اور پھر عبارت کو دیکھیئے کہ کیسی آب وتاب رکھتی ہے اور کسی قدر روانگی اور صفائی اور ملائمت اس میں پائی جاتی ہے کہ گویا ایک نہایت مصفّٰی اور شفّاف پانی ہے کہ بہتا ہؤا چلا جاتا ہے اور پھر اُس کی روحانی تاثیروں کو دل میں سوچے کہ جو بطور خارقِ عادت دلوں کو ظلمات بشریت سے صاف کرکے موردِ انوارِ حضرت الوہیت بناتی ہیں جن کو ہم اس کتاب کے