ہدایت دیتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ خدا نے اپنی کتاب اور اپنا رسول بھیجا وہ تم پر کلام الٰہی پڑھتا ہے تا وہ ایمانداروں اور نیک کرداروں کو ظلمات سے نور کی طرف نکالے پس خدائے تعالیٰ نے ان تمام آیات میں کھلا کھلی بیان فرما دیا کہ جس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے اور قرآن شریف نازل کیا گیا اُس زمانہ پر ضلالت اور گمراہی کی ظلمت طاری ہورہی تھی اور کوئی ایسی قوم نہیں تھی کہ جو اس ظلمت سے بچی ہوئی ہو پھر بقیہ ترجمہ آیات ممدوحہ بالا کا یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہاری طرف ایک رسولؔ بھیجا ہے کہ تمہاری حالت معصیت اور ضلالت پر شاہد ہے اور یہ رسول اُسی رسول کی مانند ہے کہ جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا اور ہم نے اس کلام کو ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ یہ اترا ہے یعنی یہ کلام ِ فی حدِّ ذَاتہٖ حق اور راست ہے اور اس کا آنا بھی حقاًّ و ضرورتاً ہے لوگوں پر یہ بات واضح رہے کہ جس حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات اب بھی آفتاب کی طرح روشن ہیں اور دوسرے کسی نبی کی برکات کا نشان نہیں ملتا۔ تو اس صورت میں لازم ہے کہ اگر ایسے متعصب اور دنیا پرست پادری کسی بازار یا کسی شہر یا گاؤں میں کسی کو برخلاف اس حق الامر کے بہکاتے نظر آویں تو یہی موقعہ اس کتاب کا ان کے سامنے کھول کر رکھ دیا جاوے۔ کیونکہ یہ کتاب دس ہزار روپیہ کے اشتہار پر تالیف کی گئی ہے اور اس سے معارضہ کرنے والا دس ہزار روپیہ پاسکتا ہے پس شرم اور حیا سے نہایت بعید ہے کہ جو لوگ نبوتِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منکر ہیں وہ پنڈت ہوں یا پادری آریہ ہوں یا برہموں وہ صرف زبان سے طریق فضول گوئی کا اختیار رکھیں اور جو دلائل قطعیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور رسالت پر ناطق ہورہی ہیں ان کے جو ۱ب کا کچھ فکر نہ کریں یہ عاجز خواہ نخواہ ان کو دینِ اسلام کے قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں کرتا لیکن اگر مقابلہ و معارضہ سے عاجز رہیں اور جو کچھ آسمانی نشان اور عقلی دلائل حقیتِ اسلام