ہے مگر کامل طور پر اس وقت آئی تھی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا دن آپہنچا تھا کیونکہ اس وقت تمام دنیا پر ایسی کامل گمراہی کی تاریکی پھیل چکی تھی جس کی مانند کبھی نہیں پھیلی تھی اور نہ آئندہ کبھی پھیلے گی جب تک قیامت نہ آوے۔ غرض جب یہ ظلمت اپنے اس انتہائی نقطہ تک پہنچ جاتی ہے کہ جو اس کے لئے مقدر ہے تو عنایت الٰہیہ تنویر عالم کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور کوئی صاحب نور دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے اور جب وہ آتا ہے تو اس کی طرف مستعد روحیں کھینچی چلی آتی ہے اور پاک فطرتیں خودبخود رو بحق ہوتی چلی جاتی ہیں اور جیسا کہ ہرگز ممکن نہیں کہ شمع کے روشن ہونے سے پروانہ اس طرف رخ نہ کرے ایسا ہی یہ بھی غیر ممکن ہے کہ بروقت ظہور کسی صاحبِ ُ نور کے صاحب فطرت سلیمہ کا اس کی طرف بارادت متوجہ نہ ہو۔ ان آیات میں جو خدائے تعالیٰ نے بیان اور بہت سے اسرار مخفیہ سے اطلاع بخشی ہے اور بہت سے حقائق اور معارف سے اس ناچیز کے سینہ کو پُر کردیا ہے اور بارہا بتلا دیا ہے کہ یہ سب عطیّات اور عنایات اور یہ سب تفضّلات اور احسانات اور یہ سب تلطّفات اور توجہات اور یہ سب انعامات اور تائیدات اور یہ سب مکالمات اور مخاطبات بیمن متابعت و محبت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیںؔ ۔ جمالِ ہم نشین درمن اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم اب وہ واعظانِ انجیل اور پادریانِ گُم کردہ سبیل کہاں اور کدھر ہیں کہ جو پرلے درجہ کی اےؔ بصد انکاروکیں از کودنی رو درِ حق زن چرا سر می زنی نالہا کُن کے خداوندِ یگاں بگسلاں از پائے من بند گراں تا مگر زاں نالہائے درد ناک دست غیبی گیردت ناگہہ زِ خاک بے عنایاتِ خدا کار است خام پُختہ داند ایں سخن را والسلام منہ