اب جاننا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ نے اِس بات کو بڑے پُرزور الفاظ سے قرآن شریف میں بیان کیا ہے کہ دنیا کی حالت میں قدیم سے ایک مدّوجزر واقعہ ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے33۔۱ یعنی اے خدا کبھی تو رات کو دن میں اور کبھی دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی ضلالت کے غلبہ پر ہدایت اور ہدایت کے غلبہ پر ضلالت کو پیدا کرتا ہے۔ اور حقیقت اس مدوجزر کی یہ ہے کہ کبھی بامراللہ تعالیٰ انسانوں کے دلوں میں ایک صورت انقباض اور محجوبیت کی پیدا ہوجاتی ہے اور دنیا کی آرائشیں ان کو عزیز معلوم ہونے لگتی ہیں اور تمام ہمتیں ان کی اپنی دنیا کے درست کرنے میں اور اس کے عیش حاصل کرنے کی طرف مشغول ہوجاتی ہیں۔ یہ ؔ ظلمت کا زمانہ ہے جس کے انتہائی نقطہ کی رات لیلۃ القدر کہلاتی ہے اور وہ لیلۃ القدر ہمیشہ آتی
رہی ہیں جن میں سے بعض پیشگوئیاں مخالفوں کے سامنے پوری ہوگئی ہیں اور پوری ہوتی جاتی ہیں اس قدر ہیں کہ اس عاجز کے خیال میں دو انجیلوں کی ضخامت سے کم نہیں اور یہ عاجز بطفیل متابعت حضرت رسولِ کریم مخاطباؔ ت حضرت احدیّت میں اس قدر عنایات پاتا ہے کہ جس کا کچھ تھوڑا سا نمونہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ کے عربی الہامات وغیرہ میں لکھا گیا ہے۔ خداوند کریم نے اسی رسول مقبول کی متابعت اور محبت کی برکت سے اور اپنے پاک کلام کی پیروی کی تاثیر سے اس خاکسار کو اپنے مخاطبات سے خاص کیا ہے اور علومِ لدُنیہ سے سرفراز فرمایا ہے۔
یکدمؔ از خود دور شو بہرخدا
تا مگر نوشی تو کاساتِ لقا
دین حق شہر خدائے امجد است
داخلِ او در امانِ ایزد است
در دمے نیک و خوش اسلوبی کند
ہم چو خود زیبا و محبوبی کند
جانبِ اہلِ سعادت پے بزن
تا شوی روزے سعید اے جانِ من