فرمایا ہے جو بنیاد دعویٰ ہے اُس کا خلاصہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت ایک ایسی ظلمانی حالتؔ پر زمانہ آچکا تھا کہ جو آفتاب صداقت کے ظاہر ہونے کے متقاضی تھے اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں اپنے رسول کا بار بار یہی کام بیان کیا ہے کہ اس نے زمانہ کو سخت ظلمت میں پایا اور پھر ظلمت سے ان کو باہر نکالا جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ 3 3 ۔۱ الجزو نمبر ۳۱ سورۃ ابراہیم3 333۔۲ الجزو نمبر ۳۔ 3 33۔۳ الجزو نمبر ۲۲۔33 3۔۴ الجزو نمبر۶ سورۂ مائدہ۔
ہٹ دھرمی کو اختیار کرکے محض کینہ اور عناد اور شیطانی سیرت کی راہ سے عوام کالانعام کو یہ کہہ کر بہکاتے تھے کہ آنحضرت صلی۱للہ علیہ وسلم سے کوئی پیشگوئی ظہور میں نہیں آئی سو اب منصفان حق پسند خود سوچ سکتے ہیں کہ جس حالت میں حضرت خاتم الانبیاء کے ادنیٰ خادموں اور کمترین چاکروں سے ہزارہا پیشگوئیاں ظہور میں آتی ہیں اور خوارق عجیبہ ظاہر ہوتے ہیں تو پھر کس قدر بے حیائی اور بے شرمی ہے کہ کوئی کور باطن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں سے انکار کرے اور پادریوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیؔ پیشگوئیوں کے بارہ میں اس وجہ سے فکر پڑی کہ توریت کتاب استثناء باب ہژدہم آیت بست و دوم میں سچے نبی کی یہ نشانی لکھی ہے کہ اس کی پیشگوئی پوری ہوجائے۔ سو جب پادریوں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہزارہا خبریں قبل از وقوع بطور پیشگوئی فرمائی ہیں اور اکثر پیشگوئیوں سے قرآن شریف بھی بھرا ہوا ہے اور وہ سب پیشگوئیاں اپنے وقتوں پر پوری بھی ہوگئیں تو ان کے دل کو یہ دھڑکا شروع ہوا کہ ان پیشگوئیوں پر نظر ڈالنے سے