اس کی کیفیت ظاہر فرمائی اور بیان فرمایا کہ اس ارحم الراحمین کی یوں عادت ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال تک پہنچ جاتی ہے اور خط تاریکی کا اپنے انتہائی نقطہ پر جا ٹھہرتا ہے یعنی اس غایت درجہ پر جس کا نام باطنی طور پر لیلۃ القدر ہے۔ تب خداوند تعالیٰ رات کے وقت میں کہ جس کی ظلمت باطنی ظلمت سے مشابہ ہے عالم ظلمانی کی طرف توجہ فرماتا ہے اور اس کے اذن خاص سے ملائکہ اور روح القدس زمین پر اترتے ہیں اور خلق اللہ کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ کا نبی ظہور فرماتا ہے تب وہ نبی آسمانی نور پاکر خلق اللہ کو ظلمت سے باہر نکالتا ہے اور جب تکؔ وہ ُ نور اپنے کمال تک نہ پہنچ جائے تب تک ترقی پر ترقی کرتا جاتا ہے اور اسی قانون کے مطابق وہ اولیاء بھی پیدا ہوتے ہیں کہ جو ارشاد اور ہدایت خلق کے لئے بھیجے جاتے ہیں کیونکہ وہ انبیا کے وارث ہیں سو ان کے نقش قدم پر چلائے جاتے ہیں۔ سے ظہور میں آچکے اور صبح صادق کے کھلنے کی طرح پوری بھی ہوچکی ہیں۔ اور دو سو جگہ سے زیادہ قبولیت دعا کے آثار نمایاں ایسےؔ نازک موقعوں پر دیکھے گئے جن میں بظاہر کوئی صورت مشکل کشائی کی نظر نہیں آتی تھی اور اسی طرح کشف قبور اور دوسرے انواع اقسام کے عجائبات اسی سورہ کے التزامِ ورد سے ایسے ظہور پکڑتے گئے کہ اگر ایک ادنیٰ پرتوہ اُن کا کسی پادری یا پنڈت کے دل پر پڑجائے تو یک دفعہ حُبِّ دنیا سے قطع تعلق کرکے اسلام کے قبول کرنے کے لئے مرنے پر آمادہ ہوجائے۔ اسی طرح بذریعہ الہاماتِ صادقہ کے جو پیشگوئیاں اس عاجز پر ظاہر ہوتی دیںؔ ہمان باشد کہ نورش باقی است و از شراب دید ہر دم ساقی است دل مدہ الّا بخوبی کز جمال و انماید بر تو آیاتِ کمال کورئ خود ترک کن ماہے بہ بیں اے گدا برخیز واں شاہے بہ بیں رو بہ بین و قد بہ بین و خدبہ بیں واز محاسنہائے خوباں صد بہ بیں