کی طرف بلااختیار کھینچے جاتے ہیں اور کسی سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا اور حقیقت میں ایسے وقت کی ثابت قدمی اور صبر اور عبادت الٰہی کا ثواب بھی وہ ملتا ہے کہ جو کسی دوسرے وقت میں ہرگز نہیں مل سکتا۔ سو اسی جہت سے لیلۃ القدرکی ایسے ہی زمانہ میں بنا ڈالی گئی کہ جس میں بباعث سخت ضلالت کے نیکی پر قائم ہونا کسی بڑے جوانمرد کا کام تھا یہی زمانہ ہے جس میں جوانمردوں کی قدرومنزلت ظاہر ہوتی ہے اور نامردؔ وں کی ذلت بہ پایۂ ثبوت پہنچتی ہے یہی پرظلمت زمانہ ہے جو اندھیری رات کی طرح ایک خوفناک صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ سو اس طغیانی کی حالت میں کہ جو بڑے ابتلا کا وقت ہے وہی لوگ ہلاکت سے بچتے ہیں جن پر عنایات الٰہیہ کا ایک خاص سایہ ہوتا ہے پس انہیں موجبات سے خدائے تعالیٰ نے اسی زمانہ کی ایک جز کو جس میں ضلالت کی تاریکی غایت درجہ تک پہنچ چکی تھی لیلۃ القدر مقرر کیا اور پھر بعد اس کے جن سماوی برکات سے اس ضلالت کا تدارک کیا جاتا ہے سے بیان کرتا ہے کہ فی الحقیقت سورۂ فاتحہ مظہرِ انوارِ الٰہی ہے اس قدر عجائبات اس سورۃ کے پڑھنے کے وقت دیکھے گئے ہیں کہ جن سے خدا کے پاک کلام کا قدر ومنزلت معلوم ہوتا ہے اس سورہ مبارکہ کی برکت سے اور اس کے تلاوت کے التزام سے کشفِ مغیبات اس درجہ تک پہنچ گیا کہ صدہا اخبار غیبیہ قبل از وقوع منکشف ہوئیں اور ہریک مشکل کے وقت اس کے پڑھنے کی حالت میں عجیب طور پر رفع حجاب کیا گیا اور قریب تین ہزار کے کشف صحیح اور رؤیا صادقہ یاد ہے کہ جو اب تک اس عاجز فرقؔ بسیار است در دید و شنید خاک بر فرقِ کسے کیں را ندید دید را کُن جستجو اے ناتمام ورنہ درکار خودی بس سردو خام بر سماعت چوں ہمہ باشد بنا آں نیفزاید جوئے صدق و صفا صد ہزاراں قصہ از روئے شنید نیست یکساں باجوئے کاں ہست دید