ہو اور محبت الٰہیہ یک لخت دلوں سے اٹھ گئی ہو اور رو بحق ہونے میں اور وفادار بندہ بننے میں کئی نوع کے ضرر متصوّر ہوں نہ کوئی اس راہ کا رفیق نظر آوؔ ے اور نہ کوئی اس طریق کا ہمدم ملے بلکہ اس راہ کی خواہش کرنے والے پر موت تک پہنچانے والی مصیبتیں دکھائی دیں اور لوگوں کی نظر میں ذلیل اور حقیر ٹھہرتا ہو تو ایسے وقت میں ثابت قدم ہوکر اپنے محبوب حقیقی کی طرف رخ کرلینا اور ناہموار عزیزوں اور دوستوں اور خویشوں اور اقارب کی رفاقت چھوڑ دینا اور غربت اور بے کسی اور تنہائی کی تکلیفوں کو اپنے سر پر قبول کرلینا اور دکھ پانے اور ذلیل ہونے اور مرنے کی کچھ پرواہ نہ کرنا حقیقت میں ایسا کام ہے کہ بجز اولوالعزم مرسلوں اور نبیوں اور صدیقوں کے جن پر فضلِ احدیت کی بارشیں ہوتی ہیں اور جو اپنے محبوب
سو اؔ ے بھائیو اُنہیں پنڈت صاحب کے حال سے نصیحت پکڑو اور اپنے نفسوں پر ظلم نہ کرو سچی نجات کو ڈھونڈو تا اسی جہان میں اس کی برکتیں پاؤ۔ سچی اور حقیقی نجات وہی ہے جس کی اس جہان میں برکتیں ظاہر ہوتی ہیں اور قادر قوی کا وہی پاک کلام ہے کہ جو اسی جگہ طالبوں پر آسمانی راہ کھولتا ہے سو اپنے آپ کو دھوکا مت دو اور جس دین کی حقیت اسی دنیا میں نظر آرہی ہے اس پاک دین سے روگردان ہوکر اپنے دل پر تاریکی کا دھبہ مت لگاؤ ہاں اگر مقابلہ اور معارضہ کرنے کی طاقت ہے تو اسی سورۂ فاتحہ کے کمالات کے مساوی کوئی دوسرا کلام پیش کرو اور جو کچھ سورۂ فاتحہ کے خواص روحانی کی بابت اس عاجز نے لکھا ہے وہ کوئی سماعی بات نہیں ہے بلکہ یہؔ عاجز اپنے ذاتی تجربہ
زیںؔ سخنہا ہر کہ روگرداں بود
آں نہ مردے رہزن مرداں بود
اے خدا بیخِ خبیثانے برار
کز جفا باحق نمیدارند کار
دل نمیدارند و چشم و گوش ہم
باز سر پیچاں ازاں بدرِ اتم
دین شان بر قصہ ہا دارد مدار
گفتگوہا بر زباں دل بے قرار