کی ایک رات ہزار مہینہ سے بہتر بنائی گئی۔ اور اگر معقولی طور پر نظر کریں تب بھی ظاہر ہے کہ ضلالت کا زمانہ عبادت اور طاعت الٰہی کے لئے دوسرے زمانہ سے زیادہ تر موجب قربت و ثواب ہے پس وہ دوسرے زمانوں سے زیادہ تر افضل ہے اور اس کی عبادتیں بباعث شدت و صعوبت اپنی قبولیت سے قریب ہیں اور اس زمانہ کے عابد رحمت الٰہی کے زیادہ تر مستحق ہیں کیونکہ سچے عابدوں اور ایمانداروں کا مرتبہ ایسے ہی وقت میں عنداللہ متحقّق ہوتا ہے کہ جب تمام زمانہ پر دنیا پرستی کی ظلمت طاری ہو اور سچ کی طرف نظر ڈالنے سے جان جانے کا اندیشہ ہو اور یہ بات خود ظاہر ہے کہ جب دل افسردہ اور مردہ ہوجائیں اور سب کسی کو جیفۂ دنیا ہی پیارا دکھائی دیتا ہو اور ہر طرف اس روحانی موت کی زہرناک ہوا چل رہی کہ پنڈت صاحب کو خدا نے ایسا موقع ہداؔ یت پانے کا دیا کہ اس عاجز کو ان کے زمانہ میں پیدا کیا مگر وہ باوصف ہرطور کے اعلام کی ہدایت پانے سے بے نصیب گئے۔ روشنی کی طرف ان کو بلایا گیا مگر انہوں نے کم بخت دنیا کی محبت سے اُس روشنی کو قبول نہ کیا اور سر سے پاؤں تک تاریکی میں پھنسے رہے۔ ایک بندہ خدا نے بارہا اُن کو اُن کی بھلائی کے لئے اپنی طرف بلایا مگر انہوں نے اُس طرف قدم بھی نہ اٹھایا اور یونہی عمر کو بے جا تعصبوں اور نخوتوں میں ضائع کرکے حباب کی طرح ناپدید ہوگئے حالانکہ اس عاجز کے دس ہزار روپیہ کے اشتہار کا اول نشانہ وہی تھے اور اس وجہ سے ایک مرتبہ رسالہ برادر ھند میں بھی ان کے لئے اعلان چھپوایا گیا تھا مگر ان کی طرف سے کبھی صدا نہ اٹھی یہاں تک کہ خاک میں یا راکھ میں جاملے۔ راضیمؔ گر باشدم ایں کیفرے خوں رواں برخاک افتادہ سرے راضیم گر مال و جان و تن رود و آنچہ از قسمِ بلا برمن رود گردرُو غم رفتہ باشد بر زباں راضیم بر ہر سزائے کاذباں لیک گر توزیں سخن پیچی سرے بر تو ہم نفرین ربِّ اکبرے