جو ظاہری صورت مناسب ہو وہ اس کو عطا فرماتا ہے۔ سو چونکہ لیلۃ القدر کی حقیقت باطنی وہ کمال ضلالت کا وقت ہے جس میں عنایت الٰہیہ اصلاح عالم کی طرف متوجہ ہوتی ہے سو خدائے تعالیٰ نے بغرض تحقق مناسبت اس زمانہ ضلالت کی آخری جز کو جس میں ضلالت اپنے نکتہ کمال تک پہنچ گئی تھی خارجی طور پر ایک رات میں مقرر کیا اور یہ رات وہ رات تھی جس میں خداوند تعالیٰ نے دنیا کو کمال ضلالت میں پاکر اپنے پاک کلام کو اپنے نبی پر اتارنا ارادہ فرمایا۔ سو اس جہت سے نہایت درجہ کی برکات اس رات میں پیدا ہوگئیں یا یوں کہو کہ قدیم سے اسی ارادۂ قدیم کے رو سے پیدا تھی اور پھر اُس خاص رات میں وہ قبولیت اور برکت ہمیشہ کے لئے باقی رہی اور پھر بعد اس کے فرمایا کہ وہ ظلمت کا وقت کہ جو اندھیری رات سے مشابہ تھا جس کی تنویر کے لئے کلام الٰہی کا نور اترا اُس ؔ میں بباعث نزولِ قرآن اس طرف ذرا بھی توجہ نہ کی یہاں تک کہ جس دنیا سے انہوں نے پیار کیا اور ربط بڑھایا تھا آخر بصد حسرت اس کو چھوڑ کر اور تمام درہم و دینار سے بمجبوری جدا ہوکر اس دارالفنا سے کوچ کرگئے اور بہت سی غفلت اور ظلمت اور ضلالت اور کفر کے پہاڑ اپنے سر پر لے گئے اور اُن کے سفر آخرت کی خبر بھی کہ جو اُن کو تیس اکتوبر ۳۸۸۱ ؁ء میں پیش آیا تخمیناً تین ماہ پہلے خداوند کریم نے اس عاجز کو دے دی تھی چنانچہ یہ خبر بعض آریہ کو بتلائی بھی گئی تھی۔ خیر یہ سفر تو ہریک کو درپیش ہی ہے اور کوئی آگے اور کوئی پیچھے اس مسافر خانہ کو چھوڑنے والا ہے مگر یہ افسوس ایک بڑا افسوس ہے و ؔ از سر صدق و ثبات و غم خوری روزگارے در حضور ما بری عالمے بینی زِ ربانی نشاں سوئے رحماں خلق و عالم راکشاں گر خلافِ واقعہ گفتم سخن راضیم گر تو سرم بُری زِ تن راضیم گر خلق بردارم کشند از سرِ کیں با صد آزارم کشند