آیت ممدوحہ میں اشارہ فرمایا کہ ہم نے قرآن کو ایک ایسی رات میں نازل کیا ہے جس میں بندوں کی اصلاح اور بھلائی کے لئے صراط مستقیم کی کیفیت بیان کرنا اور شریعت اور دین کی حدود کو بتلانا از بس ضروری تھا یعنی جب گمراہی کی تاریکی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ جیسی سخت اندھیری رات ہوتی ہے تو اس وقت رحمت الٰہی اس طرف متوجہ ہوئی کہ اس سخت اندھیری کے اٹھانے کے لئے ایسا قوی ُ نور نازل کیا جائے کہ جو اس اندھیری کو دور کرسکے۔ سو خدا نے قرآن شریف کو نازل کرکے اپنے بندوں کو وہ عظیم الشان نور عطا کیا کہ جو شکوک اور شبہات کی اندھیری کو دور کرتا ہے اور روشنی کو پھیلاتا ہے۔ اس جگہ جاننا چاہئے کہ اس باطنی لیلۃؔ القدر کو ظاہری لیلۃ القدر سے کہ جو عندالعوام مشہور ہے کچھ منافات نہیں بلکہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ ہریک کام مناسبت سے کرتا ہے اور حقیقت باطنی کے لئے
ملتی ہے۔ یہ دونوں قسم کے ثبوت اسلام کے غیر میں ہرگز نہیں پائے جاتے اور نہ ان کو طاقت ہے کہ اس کے مقابلہ پر کچھ دم مارسکیں لیکن اسلام میں وجود اس کا متحقق ہے سو اگر ان دونوں قسم کے ثبوت میں سے کسی قسم کے ثبوت میں شک ہو تو اسی جگہ ؔ قادیان میں آکر اپنی تسلی کرلینی چاہئے اور یہ بھی پنڈت صاحب کو لکھا گیا کہ معمولی خرچ آپ کی آمدورفت کا اور نیز واجبی خرچ خوراک کا ہمارے ذمہ رہے گا اور وہ خط اُن کے بعض آریوں کو بھی دکھلایا گیا اور دونوں رجسٹریوں کی ان کی دستخطی رسید بھی آگئی پر انہوں نے حُبِّ دنیا اور ناموس دُنیوی کے باعث سے
پُرؔ ز اعجاز است آں عالی کلام
نور یزدانی درُو رخشد تمام
از خدائی ہا نمودہ کار را
بر دریدہ پردۂ کفار را
آفتاب است و کند چوں آفتاب
گرنہ کوری بیابنگر شتاب
اے مزوّر گر بیائی سوئے ما
واز وفا رخت افگنی در کوئے ما