یکبارگی تمام دل رو بدنیا ہوجاتے ہیں اور پھر رو بدُنیا ہونے کی شامت سے ان کے تمام عقائد و اعمال و افعال و اخلاق و آداب اور نیّتوں اور ہمتوں میں اختلال کلّی راہ پاجاتا ہے اور محبتِ الٰہیہ دلوں سے بکُلّی اٹھ جاتی ہے اور یہ عام وبا ایسا پھیلتا ہے کہ تمام زمانہ پر رات کی طرح اندھیرا چھا جاتا ہے تو ایسےؔ وقت میں یعنی جب وہ اندھیرا اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے رحمتِ الٰہیہ اس طرف متوجہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو اس اندھیری سے خلاصی بخشے اور جن طریقوں سے ان کی اصلاح قرین مصلحت ہے ان طریقوں کو اپنے کلام میں بیان فرماوے سو اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے
یہ پنڈت صاحب کا خوش عقیدہ تھا جس کو پرزور دلائل سے رد کرکے پنڈت صاحب پر یہ ثابت کیا گیا تھا کہ خدائے تعالیٰ ہرگز ادھورا اور ناقص نہیں بلکہ مبدء ہے تمام فیضوں کا اور جامع ہے تمام خوبیوں کا اور مستجمع ہے جمیع صفاتِ کاملہ کا اور واحد لاشریک ہے اپنی ذات میں اورؔ صفات ؔ میں اور معبودیت میں اور پھر اس کے بعد دو دفعہ بذریعہ خط رجسٹری شدہ حقیّت دین اسلام سے بدلائل واضحہ ان کو متنبہ کیا گیا اور دوسرے خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ اسلام وہ دین ہے جو اپنی حقیّت پر دوہرا ثبوت ہر وقت موجود رکھتا ہے ایک معقولی دلائل جن سے اُصولِ حقہ اسلام کی دیوار روئیں کی طرح مضبوط اور مستحکم ثابت ہوتی ہیں۔ دوسری آسمانی آیات و ربانی تائیدات اور غیبی مکاشفات اور رحمانی الہامات و مخاطبات اور دیگر خوارق عادات جو اسلام کے کامل متبعین سے ظہور میں آتے ہیں جن سے حقیقی نجات ایسے جہان میں سچے ایماندار کو
ازؔ طفیلِ اوست نور ہر نبی
نام ہر مرسل بنام او جلی
آں کتابے ہمچو خور دادش خدا
کز رخش روشن شد ایں ظلمت سرا
ہست فرقاں طیب و طاہر شجر
از نشانہا میدہد ہردم ثمر
صد نشانِ راستی دروَے پدید
نے چو دینِ تو بنایش برشنید