سے بھرگئے توہم نے مطابق اپنے قانون قدیم کے نورکے نشان کوظاہر کیا تادانشمند لوگ قادر مطلق کی قدرت نمایاں کو ملاحظہ کرکے اپنے یقین اور معرفت کو زیادہ کریں۔ اورپھر بعد اس کے فرمایا3الخ ۱ اِس سورۃ کا حقیقی مطلب جوایک بھاری صداقت پر مشتمل ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں اس قاعدۂ کُلّی کا بیان فرمانا ہے کہ دنیا میں کب اورکس وقت میں کوئی کتاب اور پیغمبر بھیجا جاتا ہے۔ سو وہ قاعدہ یہ ہے کہ جب دلوں پر ایک ایسی غلیظ ظلمت طاری ہوجاتی ہے کہ
نہیں کہ ایک ذرہ اپنی طرف سے پیدا کرسکے اور نہ اس میں یہ رحیمیت ہے کہ کسی اوتار یا کسی رکھی یا منی کو یا کسی ایسے کو بھی کہ جس پر وید اترا ہو ہمیشہ کے لئے نجات دے اور پھر اس کا مرتبہ ملحوظ رکھ کر مکتی خانہ سے باہر دفعہ نہ کرے اور اپنے اُس پیارے کو ؔ جس کے دل میں پرمیشر کی پریت اور محبت رچ گئی ہے بار بارُ کتابِلا بننے سے بچاوے۔
مگر افسوس کہ پنڈت صاحب نے اس نہایت ذلیل اعتقاد سے دست کشی اختیار نہ کی اور اپنے تمام بزرگوں اور اوتاروں وغیرہ کی اہانت اور ذلت جائز رکھی مگر اس ناپاک اعتقاد کو نہ چھوڑا۔ اور مرتے دم تک یہی ان کا ظن رہا کہ گو کیسا ہی اوتار ہو رام چندر ہو یا کرشن ہو یا خود وہی ہو جس پر وید اترا ہے پرمیشور کو ہرگز منظور ہی نہیں کہ اس پر دائمی فضل کرے بلکہ وہ اوتار بناکر پھر بھی انہیں کو کیڑے مکوڑے ہی بناتا رہے گا وہ کچھ ایسا سخت دل ہے کہ عشق اور محبت کا اس کو ذرا پاس نہیں اور ایسا ضعیف ہے کہ اس میں خودبخود بنانے کی ذرہ طاقت نہیں۔
ایںؔ نشان *** آمد کایں خساں
ماندہ اندر ظلمتی چوں شپراں
نے دلِ صافی نہ عقلے راہ بیں
راندۂ درگاہِ رب العالمیں
جان کنی صد کن بکینِ مصطفی
رہ نہ بینی جُز بدینِ مصطفی
تانہ نورِ احمد آید چارہ گر
کس نمی گیرد ز تاریکی بدر