کی خوبی اور زیبائی اسی سے ظاہر ہوتی ہے کیونکہ خوبصورت کا قدر و منزلت بدصورت سے ہی معلوم ہوتا ہے اس لئے حکمت الٰہیہ نے یہی چاہا کہ ظلمت اور نور علیٰ سبیل التبادل دنیا میں دَور کرتے رہیں۔ جب نور اپنے کمال کو پہنچ جائے تو ظلمت قدم بڑھاوے۔ اور جب ظلمت اپنے انتہائی درجہ تک پہنچ جائے تو پھر نور اپنا پیارا چہرہ دکھاوے سو استیلا ظلمت کا نور کے ظہور پر ایک دلیل ہے اور استیلانور کا ظلمت کے آنے کا ایک سبیل ہے۔ ہر کمالِ رَا زَوَالے مثل مشہور ہے سو اسؔ آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال کو پہنچ گئی اور برّ وبحر ظلمت طرف دعوت کی اور آخرت کی رسوائی یاد دلائی اور ان کے مذہب اور اعتقاد کا سراسر باطل ہونا براہینِ قطعیہ سے اُن پر ظاہر کیا اور نہایت عمدہ اور کامل دلائل سے بادب تمام اُن پر ثابت کردیا کہ دہریوں کے ؔ بعد تمام دنیا میں آریوں سے بدتر اور کوئی مذہب نہیں کیونکہ یہ لوگ خدائے تعالیٰ کی سخت درجہ پر تحقیر کرتے ہیں کہ اس کو خالق اور رب العالمین نہیں سمجھتے اور تمام عالم کو یہاں تک کہ دنیا کے ذرّہ ذرّہ کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں اور صفت قدامت اور ہستی حقیقی میں اس کے برابر سمجھتے ہیں اگر ان کو کہو کہ کیا تمہارا پرمیشر کوئی روح پیدا کرسکتا ہے یا کوئی ذرّہ جسم کا وجود میں لاسکتا ہے یا ایسا ہی کوئی اور زمین و آسمان بھی بنا سکتا ہے یا کسی اپنے عاشق صادق کو نجاتِ ابدی دے سکتا ہے اور بار بار کتا بِلّا بننے سے بچا سکتا ہے یا اپنے کسی محب خالص کی توبہ قبول کرسکتا ہے تو ان سب باتوں کا یہی جواب ہے کہ ہرگز نہیں اس کو یہ قدرت ہی لیکؔ گر خواہی بیابنگر زِما صد نشانِ صدق شانِ مصطفی ہاں بیا اے دیدہ بستہ از حسد تا شعاعش پردۂ تو بر درد صادقاں را نور حق تابد مدام کاذباں مردند و شدُ تر کی تمام مصطفی مہرِ درخشانِ خداست بر عدوش ***ِ ارض و سماست