اور پھر فرمایا کہ ہم نے رات اور دن دو نشانیاں بنائی ہیں یعنی انتشار ضلالت جو رات سے مشابہ ہے اور انتشار ہدایت جو دن سے مشابہؔ ہے۔ رات جو اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے تو دن کے چڑھنے پر دلالت کرتی ہے اور دن جب اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو رات کے آنے کی خبر دیتا ہے سو ہم نے رات کا نشان محو کرکے دن کا نشان رہنما بنایا یعنی جب دن چڑھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اندھیرا تھا۔ سو دن کا نشان ایسا روشن ہے کہ رات کی حقیقت بھی اسی سے کھلتی ہے اور رات کا نشان یعنی ضلالت کا زمانہ اس لئے مقرر کیا گیا کہ دن کے نشان یعنی انتشارِ ہدایت کھل جائے گی کہ فی الحقیقت وہ خواص روحانی جن کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے سورۃفاتحہ اور قرآن شریف میں پائے جاتے ؔ ہیں سو کیا مبارک وہ شخص ہے کہ جو اپنے دل کو تعصب اور عناد سے خالی کرکے اور اسلام کے قبول کرنے پر مستعد ہوکر اس مطلب کے حصول کے لئے بصدق و ارادت توجہ کرے اور کیا بدقسمت وہ آدمی ہے کہ اس قدر واشگاف باتیں سن کر پھر بھی نظر اٹھا کر نہ دیکھے اور دیدہ و دانستہ خدائے تعالیٰ کی *** اور غضب کا مورد بن جاوے۔ مرگ نہایت نزدیک ہے اور بازی اجل سر پر ہے۔ اگر جلد تر خدا سے ڈر کر اس عاجز کی باتوں کی طرف نظر نہیں کرو گے اور اپنی تسلی اور تشفی حاصل کرنے کے لئے صدق اور ارادت سے قدم نہیں اٹھاؤ گے تو میں ڈرتا ہوں کہ آپ لوگوں کا ایسا ہی انجام نہ ہو جیسا پنڈت دیانند آریوں کے سرگروہ کا انجام ہوا کیونکہ اس احقر نے ان کو ان کی وفات سے ایک مدت پہلے راہِ راست کی زانکہؔ کذب و فسق و کفرت در سراست وایں نجاست خواریت زاں بدتراست تو ہلاکی اے شقی سرمدی زانکہ از جانِ جہاں سرکش شدی اے در انکار و شکے از شاہِ دیں خادمان و چاکرانش ر ابہ بیں کس ندیدہ از بزرگانت نشاں نیست در دستُِ تو بیش از داستاں