بہت سا خلل واقعہ ہوگیا اور وہ سب رو بدنیا ہوگئے اور رو بحق نہ رہے اس لئے امداد الٰہی اُن سے منقطع ہوگئی۔ سو خدا نے اپنی حجت پوری کرنے کے لئے ان کے لئے اپنا رسول بھیجا تا ان کو ان کے بعض عملوں کا ؔ مزہ چکھاوے اور تا ایسا ہو کہ وہ رجوع کریں۔ کہہ زمین پر سیر کرو پھر دیکھو کہ جو تم سے پہلے کافر اور سرکش گزر چکے ہیں ان کا کیا انجام ہوا اور اکثر ان میں سے مشرک ہی تھے کیا انہوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ہمارا یہی دستور اور طریق ہے کہ ہم خشک زمین کی طرف پانی روانہ کردیا کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں تا ان کے چارپائے اور خود وہ کھیتی کو کھاویں اور مرنے سے بچ جائیں سو تم کیوں نظر غور سے ملاحظہ نہیں کرتے تاتم اس بات کو سمجھ جاؤ کہ وہ کریم و رحیم خدا کہ جو تم کو جسمانی موت سے بچانے کے لئے شدّتِ قحط اور اِمساک باران کے وقت بارانِ رحمت نازل کرتا ہے وہ کیونکر شدت ضلالت کے وقت جو روحانی قحط ہے زندگی کا پانی نازل کرنے سے جو اس کا کلام ہے تم سے دریغ کرے۔ کے بعد کوئی نامنصف کہے کہ کب مجھ کو کھول کر کہا گیا کہ تا میں اس جستجو میں پڑتا۔ کب کسی نے اپنی ذمہ داری سے دعویٰ کیا تا میں ایسے دعویٰ کا ثبوت اس سے مانگتا۔ سو اے بھائیو۔ اے حق کے طالبو ادھر دیکھو کہ یہ عاجز کھول کر کہتا ہے اور اپنے خدا پر توکل کرکے جس کے انوار دن رات دیکھ رہا ہے اس بات کا ذمہ وار بنتا ہے کہ اگر تم دلی صدق اور صفائی سے حق کے جویاں اور خواہاں ہوکر صبر اور ارادت سے کچھ مدت تک اس احقر کی صحبت میں زندگی بسر کرو گے تو یہ بات تم پر بدیہی طور پر اےؔ بسا محبوبِ آں ربِّ جلیل پشت از کوری حقیر است و ذلیل اے بسا کس خوردہ صد جامِ فنا پیش ایں چشمت ُ پر از حرص و ہوا گر نماندے از وجودِ تو نشاں نیک بودے زیں حیاتِ چوں سگاں زاغ گر زادی بجایت مادرت نیک بود از فطرت بد گوہرت