لوگوں کے دل ٹوٹ جاتے ہیں اور مینہ برسنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی اور پھر فرمایا کہ تو خدا کی رحمت کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ اور اس کی رحمت کی نشانیوں پر غور کر کہ وہ کیونکر زمین کو اس کے مرنے کے پیچھے زندہ کرتا ہے بے شک وہی خدا ہے جس کی یہ بھی عادت ہےؔ کہ جب لوگ روحانی طور پر مرجاتے ہیں اور سختی اپنی نہایت کو پہنچ جاتی ہے تو اسی طرح وہ ان کو بھی زندہ کرتا ہے اور وہ ہرچیز پر قادر اور توانا ہے اسی نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہریک وادی اپنے اپنے اندازہ اور قدر کے موافق بہ نکلا یعنی ہریک شخص نے اپنی استعداد کے موافق فائدہ اٹھایا اور پھر فرمایا کہ وہ رسول اس وقت آیا کہ جب جنگل اور دریا میں فساد ظاہر ہوگیایعنی تمام روئے زمین پر ظلمت اور ضلالت پھیل گئی اور کیا اُمّی لوگ اور کیا اہل کتاب اور اہل علم سب کے سب بگڑ گئے اور کوئی حق پر قائم نہ رہا اور یہ سب فساد اس لئے ہوا کہ لوگوں کے دلوں سے خلوص اور صدق اٹھ گیا اور اُن کے اعمال خدا کے لئے نہ رہے بلکہ اُن میں
جماویں تا اس جہان میں ذلت اور رسوائی سے اور دوسرے جہان میں عذاب اور عقوبتؔ سے نجات پاویں۔ سو دیکھو اے بھائیو اے عزیزو اے فلاسفرو اے پنڈتو اے پادریو اے آریو اے نیچریو اے براہم دھرم والو کہ میں اس وقت صاف صاف اور علانیہ کہہ رہا ہوں کہ اگر کسی کو شک ہو اور خاصۂ مذکورۂ بالا کے ماننے میں کچھ تامل ہو تو وہ بلاتوقف اس عاجز کی طرف رجوع کریں اور صبوری اور صدق دلی سے کچھ عرصہ تک صحبت میں رہ کر بیانات مذکورۂ بالا کی حقیت کو بچشم خود دیکھ لے ایسا نہ ہو کہ اس ناچیز کے گذرنے
روئےؔ شان آں آفتابے کاندراں
چشم مرداں خیرہ ہم چوں شپراں
تو خودی زن رائے تو ہمچوں زناں
ناقص ابنِ ناقص ابنِ ناقصاں
خوب گر نزدُِ تو زِشت است و تباہ
پس چہ خوانم نام تو اے روسیاہ
کوریت صد پردہ ہا بر تو فگند
وایں تعصبہائے تو بیخت بکند