پھر تو دیکھتا ہے کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلتا ہے پھر جن بندوں کو اپنے بندوں میں سے اس مینہ کاپانی پہنچاتا ہے تو وہ خوش وقت ہوجاتے ہیں اور ناگہانی طورؔ پرخدا ان کے غم کوخوشی کے ساتھ مُبدّل کردیتا ہے اور مینہ کے اترنے سے پہلے ان کو بباعث نہایت سختی کے کچھ امید باقی نہیں رہتی پھر یکدفعہ خدائے تعالیٰ ان کی دستگیری فرماتا ہے یعنی ایسے وقت میں بارانِ رحمت نازل ہوتاہے جب
اپنے ذاتی تجارب سے ہریک منکر کی پوری پوری اطمینان کرسکتا ہے اس لئے مناسب ہے کہ طالب حق بن کر اس احقر کی طرف رجوع کریں اور جو جو خواص کلام الٰہی کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اس کو بچشم خود دیکھ لیں اور تاریکی اور ظلمت میں سے نکل کر نور حقیقی میں داخل ہوجائیں۔ اب تک تو یہ عاجز زندہ ہے مگر وجود خاکی کی کیا بنیاد اور جسم فانی کا کیا اعتماد۔ پس مناسب ہے کہ اس عام اعلان کو سنتے ہی احقاقِ حق اور ابطال باطل کی طرف توجہ کریں۔ تا اگر دعویٰ اس احقر کا بہ پایۂ ثبوت نہ پہنچ سکے تو منکر اور روگردان رہنے کے لئے ایک وجہ موجہ پیدا ہوجائے۔ لیکن اگر اس عاجز کے قول کی صداقت جیسا کہ چاہئے بہ پایۂ ثبوت پہنچ جائے تو خدا سے ڈر کر اپنے باطل خیالات سے باز آئیں اور طریقۂ حقّہ اسلام پر قدم
مصطفیٰ آئینۂ روئے خداست
منعکس دروے ہماں خوئے خداست
گر ندیدستی خدا او را بہ بیں
من رأنی قد رأی الحق ایں یقین
آنکہ آویزد بمستانِ خدا
خصم او گردد جنابِ کبریا
دست حق تائید ایں مستان کند
چوں کسی بادست حق دستاں کند
منزلِ شاں برتر از صد آسماں
بس نہاں اندر نہاں اندر نہاں
پا فشردہ در وفائے دلبرے
وازسرش برخاک افتادہ سرے
جانِ خود را سوختہ بہر نگار
زندہ گشتہ بعد مرگ صد ہزار
صاحب چشم اندر آنجا بے تمیز
چشمِ کوراں خود نباشد ہیچ چیز