کھیتی نہیں نکلتی اسی طرح سے ہم پھیر پھیر کر بتاتے ہیں تا جو شکر کرنے والے ہیں شکر کریں۔ اور پھر فرمایا کہ خدائے تعالیٰ وہ ذاتِ کریم و رحیم ہے کہ جو بروقت ضرورت ایسی ہوائیں چلاتا ہے جو بدلی کو ابھارتی ہیں پھر خدائے تعالیٰ اس بدلی کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کو تہہ بہ تہہ رکھتا ہے۔ بنارکھا ہے کہ جو صرف عقلی اٹکلوں اور قیاسی ڈھکوسلوں پر ختم ہوتا ہے اور دوسری طرف خدائے تعالیٰ کو بھی نہایت درجہ کاؔ ؔ کمزور اور ضعیف سا خیال کررہے ہیں۔ سو یہ عاجزان سب صاحبوں کی خدمت میں بادب تمام عرض کرتا ہے کہ اگراب تک تاثیرات قرآنی سے انکار ہے اور اپنے جہل قدیم پر اصرار ہے تواب نہایت نیک موقعہ ہے کہ یہ احقر خادمین آن کہؔ در عشقِ احد محو وفناست ہرچہ زو آید ز ذات کبریاست فانی است و تیر اُو تیر حق است صید او دراصل نخچیرِ حق است آنچہ می باشد خدا را از صفات خود دمد در فانیاں آں پاک ذات خوئے حق گردد در ایشان آشکار از جمال و از جلال کردگار لطفِ شان لطفِ خدا ہم قہر شاں قہر حق گردد نہ ہمچو دیگراں فانیاں ہستند از خود دور تر چوں ملائک کارکن از دادگر گر فرشتہ قبض جانے میکند یا کرم بر ناتوانے میکند ایں ہمہ سختی و نرمی از خداست او زِ خواہشہائے نفسِ خود جداست ہم چنیں میدان مقامِ انبیاء واصلان و فاصلاں از ماسواء فانی اند و آلۂ ربانی اند نور حق در جامۂ انسانی اند سخت پنہاں در قبابِ حضرت اند گم زِ خود در رنگ و آبِ حضرت اند اخترانِ آسمانِ زیب و فر رفتہ از چشمِ خلائق دور تر کس ز قدر نور شاں آگاہ نیست زانکہ ادنیٰ را باعلیٰ راہ نیست کور کورانہ زند رائے دنی چشمِ کورش بے خبر زاں روشنی ہم چنیں تو اے عدوِّ مصطفیٰ مے نمائی کورئ خود را بما بر قمر عوعو کُنی از سگ رگے نور مہ کمتر نہ گردد زیں سگے