یہ لطائف خمسہ ہیں کہ جو بطور نمونہ مشتے از خروارے ہم نے لکھے ہیں مگر عجائبات معنوی اس صورت میں اورؔ نیز دوسرے حقائق و معارف اس قدر ہیں کہ اگر اُن کا عشرِ عشیر بھی لکھا جائے تو اس کے لکھنے کے لئے ایک بڑی کتاب چاہئے۔ اور جو اس سورہ مبارکہ میں خواص روحانی ہیں وہ بھی ایسے اعلیٰ و حیرت انگیز ہیں جن کو طالبِ حق کی ایک جُز ہے۔ پھر بعد اس کے ڈاک خانہ میں ایک اپنا معتبر بھیجا گیا اس خیال سے کہ شاید دوسری جُز بذریعہ ڈاک خانہ پوری ہو۔ ڈاک خانہ سے ڈاک منشی نے جو ایک ہندو ہے جواب میں یہ کہا کہ میرے پاس صرف ایک منی آرڈر پانچ روپیہ کا جس کے ساتھ ایک کارڈ بھی نتھی ہے ڈیرہ غازی خان سے آیا ہے سو ابھی تک میرے پاس روپیہ موجود نہیں جب آئے گا تو دوں گا۔ اس خبر کے سننے سے سخت حیرانی ہوئی اور وہ اضطراب پیشؔ آیا جو بیان نہیں ہوسکتا چنانچہ یہ عاجز اسی تردد میں سربزانو تھا اور اس تصوّر میں تھا کہ پانچ اور ایک مل کر چھ ہوئے اب اکیس کیونکر ہوں گے یا الٰہی یہ کیا ہوا۔ سو اسی استغراق میں تھا کہ یکدفعہ یہ الہام ہوا۔ بست ویک آئے ہیں اس میں شک نہیں۔ اس الہام پر دوپہر نہیں گزرے ہوں گے کہ اسی روز ایک آریہ کہ جو ڈاک منشی کے پہلے بیان کی خبر سن چکا تھا ڈاک خانہ میں گیا اور اس کو ڈاک منشی نے کسی بات کی تقریب سے خبر دی کہ دراصل 3بست روپیہ آئے ہیں اور پہلے یوں ہی مونہہ سے نکل گیا تھا جو میں نے پانچ روپیہ کہہ دیا۔ چنانچہ وہی آریہ 3بیس روپیہ معہ ایک کارڈ کے جو منشی الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ کی طرف سے تھا لے آیا اور معلوم ہوا کہ وہ کارڈ بھی منی آرڈر کے کاغذ سے نتھی نہ تھا اور نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ روپیہ آیا ہوا تھا۔ اور نیز منشی الٰہی بخش صاحب کی تحریر سے جو بحوالہ ڈاک خانہ کے رسید کی تھی یہ بھی