کئی فرقوں اور قوموں میں پیغمبر بھیجے۔ پس وہ لوگ شیطاؔ ن کے دھوکا دینے سے بگڑ گئے اور برے کام ان کو اچھے دکھائی دینے لگے سو وہی شیطان آج اُن سب کا رفیق ہے جو ان کو جادۂ استقامت سے مُنحرف کررہا ہے اور یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ تا ان لوگوں کا رفع اختلافات کیا جائے اور تا مومنوں کے لئے وہ ہدایتیں دیکھ کر اس بات کے اقرار کے لئے مجبور ہوتا ہے کہ بلاشبہ وہ قادر مطلق کا کلام ہے۔ چنانچہ منجملہ ان خواص عالیہ کے ایکؔ خاصہ روحانی سورہ فاتحہ میں یہ ہے کہ دلی حضور معلوم ہوا کہ منی آرڈر ۶ ستمبر ۳۸۸۱ ؁ء کو یعنی اسی روز جب الہام ہوا قادیان میں پہنچ گیا تھا۔ پس ڈاک منشی کا سارا املاء انشاء غلط نکلا اور حضرت عالم الغیب کا سارا بیان صحیح ثابت ہوا پس اس مبارک دن کی یادداشت کے لئے ایک روپیہ کی شیرینی لے کر بعض آریوں کو بھی دی گئی فالحمد للّٰہ علی اٰلآۂ و نعمآۂ ظاھرھا و باطنھا۔ اے خدا اے چارۂ آزار ما اے علاج گریہ ہائے زار ما اے تو مرہم بخش جانِ ریش ما اے تو دلدارِ دلِ غم کیش ما از کرم برداشتی ہر بار ما واز تو ہر بار و برِ اشجار ما حافظ و ستاری از جود و کرم بیکساں را یاری از لُطفِ اتم بندۂؔ درماندہ باشد دل طپاں ناگہاں درماں براری ازمیاں عاجزی را ظلمتے گیرد براہ ناگہاں آری برو صد مہر و ماہ حسن و خلق و دلبری بر تو تمام صحبتی بعد از لقائے تو حرام آں خرد مندی کہ او دیوانہ ات شمع بزم است آنکہ او پروانہ ات ہر کہ عشقت در دل و جانش فتد ناگہاں جانے در ایمانش فتد عشق تو گردد عیاں بر روئے او بوئے تو آید زبام و کوئے او صد ہزاراں نعمتش بخشی ز جود مہر ومہ را پیشش آری در سجود خود نشینی از پئے تائید او روئے تُو یاد اوفتد از دید او