ہے۔ اور اُسی ؔ کو واقعی اور حقیقی طور پر اپنا دلآرام سمجھتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جس میں تمام ترقیات قرب ختم ہوجاتی ہیں اور انسان اپنے اس انتہائی کمال کو پہنچ جاتا ہے کہ جو فطرت بشری کے لئے مقدر ہے۔ ان لوگوں کے جو عظمت اسلام سے بے خبر ہیں لکھی جاتی ہے اور اس پیشگوئی کے پورے ہونے سے پہلے ایک عجیب طور کی مشکلات اور مکروہات پیش آئے۔ آخر خداوند کریم نے ان سب مشکلات کو دور کرکے بتاریخ دہم ستمبر ۳۸۸۱ ؁ء روز دو شنبہ اس پیشگوئی کو پورا کیا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ بتاریخ ۶ ستمبر ۳۸۸۱ ؁ء روز پنجشنبہ خداوند کریم نے عین ضرورت کے وقت میں اس عاجز کی تسلی کے لئےؔ اپنے کلام مبارک کے ذریعہ سے یہ بشارت دی کہ بست ویک روپیہ آنے والے ہیں۔ چونکہ اس بشارت میں ایک عجیب بات یہ تھی کہ آنے والے روپیہ کی تعداد سے اطلاع دی گئی اور کسی خاص تعداد سے مطلع کرنا ذات غیب دان کا خاصّہ ہے کسی اور کا کام نہیں ہے۔ دوسری عجیب بر عجیب یہ بات تھی کہ یہ تعداد غیر معہود طرز پر تھی کیونکہ قیمت مقررہ کتاب سے اس تعداد کو کچھ تعلق نہیں۔ پس انہیں عجائبات کی وجہ سے یہ الہام قبل از وقوع بعض آریوں کو بتلایا گیا۔ پھر ۰۱ ستمبر ۳۸۸۱ ؁ء کو تاکیدی طور پر سہ بارہ الہام ہوا کہ بست ویک روپیہ آئے ہیں۔ جس الہام سے سمجھا گیا کہ آج اس پیشگوئی کا ظہور ہوجائے گا۔ چنانچہ ابھی الہام پر شاید تین منٹ سے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہوگا کہ ایک شخص وزیر سنگھ نامی بیماردار آیا اور اُس نے آتے ہی ایک روپیہ نذر کیا۔ ہر چند علاج معالجہ اس عاجز کا پیشہ نہیں اور اگر اتفاقاً کوئی بیمار آجاوے تو اگر اس کی دوا یاد ہو تو محض ثواب کی غرض سے ِ للہ فِی اللہ دی جاتی ہے۔ لیکن وہ روپیہ اس سے لیا گیا۔ کیونکہ فی الفور خیال آیا کہ یہ اُس پیشگوئی