کے سخت صدمات کے پیچ میں دے کر کوفتہ کیا جائے اور نچوڑا جائے تو بجز محبت الٰہیہ کے اور کچھ اس کے دل اور جان سے نہیں نکلتا۔ اسی کے درد سے لذت پاتا دوسرے تمام لوگ اُس کی متابعت اور اس کی محبت کی طفیل سے علیٰ قدر متعابعت ومحبت مراتب پاتے ہیں۔ فما اعظم شان کمالہ اللّٰھم صل علیہ وآلہ۔ اب بعد اس کے بقیہ ترجمہ الہام یہ ہے۔ اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔ وہ تجھ پر راضی اور تو اس پر راضی۔ پھر میرے بندوں میں داخل ہو اور میری بہشت میں اندر آجا۔ خدا نے تجھ پر احسان کیا اور تیرے دوستوں سے نیکی کی اور تجھ کو وہ علم بخشا جس کو تو خودبخود نہیں جان سکتا تھا۔ اور اگر تو خدا کی نعمتوں کو گننا چاہے تو یہ تیرے لئے غیر ممکن ہے۔ پھر ان الہامات کے بعد چند الہام فارسی اور اردو میں اور ایک انگریزی میں ہوا۔ وہ بھی بغرض افادۂ طالبین لکھے جاتے ہیں اور وہؔ یہ ہے۔ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔ پاک محمد مصطفی نبیوں کا سردار ۔ خدا تیرے سب کام درست کردے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ رب الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔ اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے مونہہ کی باتیں ہیں۔ جناب الٰہی کے احسانات کا دروازہ کھلا ہے اور اس کی پاک رحمتیں اس طرف متوجہ ہیں۔ دِی ڈیز شَلَ کم وَہن گاڈ شیل ہیلپ ُ یو گلوری بی ٹو دِس لارڈ َ گوڈْ میکر اوف ارتھ اینڈ ہیون۔ وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ خدائے ذوی الجلال آفریندۂ زمین و آسمان اِن الہامات کے بعد ایک ایسی پیشگوئی چند آریوں کے روبرو جو پنڈت دیانند کے توابع ہیں پوری ہوئی کہ جس کی کیفیت پر مطلع ہونا ناظرین کے لئے خالی فائدہ سے نہیں۔ سو اگرچہُ اس کے لکھنے سے کسی قدر طول ہی ہو۔ لیکن بہ نظرِ خیر خواہی