اُس کے دل میں آمیزش کرجاتی ہے ؔ کہ اُس کے دل سے محبت الٰہی کا منفک ہونا مستحیل اور ممتنع ہوتا ہے۔ اور اگر اس کے دل کو اور اس کی جان کو بڑے بڑے امتحانوں اور ابتلاؤں
کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو معہ اُن کے والد صاحب کے مسجد میں پایا۔ پھر خلاصہ یہ کہ اس احقر نے مولوی صاحب موصوف کی اُس وقت کی تقریر کو سن کر معلوم کرلیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابل اعتراض ہو اس لئے خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا۔ رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اسی ترک بحث کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ تیرا خدا تیرے اس فعل ؔ سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ پھر بعد اُس کے عالمِ کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔ چونکہ خالصاً خدا اور اس کے رسول کے لئے انکسار و تذلّل اختیار کیا گیا اس لئے اُس محسن مطلق نے نہ چاہا کہ اُس کو بغیر اجر کے چھوڑے۔ فتدبروا و تفکرّوا۔
پھر بعد اِس کے فرمایا کہ لوگوں کی بیماریاں اور خدا کی برکتیں یعنی مبارک کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ اس سے لوگوں کی روحانی بیماریاں دور ہوں گی اور جنکے نفس سعید ہیں وہ تیری باتوں کے ذریعہ سے رشد وہدایت پاجائیں گے اور ایسا ہی جسمانی بیماریاں اور تکالیف جن میں تقدیر مبرم نہیں۔ اور پھر فرمایا کہ تیرا رب بڑا ہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ خدا کی نعمت کو یاد رکھ اور میں نے تجھ کو تیرے وقت کے تمام عالموں پر فضیلت دی ہے۔ اس جگہ جاننا چاہئے کہ یہ تفضیل طفیلی اور جزوی ہے یعنی جو شخص حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل طور پرمتابعت کرتا ہے۔ اُس کا مرتبہ خدا کے نزدیک اسکے تمام ہمعصروں سے برتر و اعلیٰ ہے۔ پس حقیقی اور کلی طور پر تمام فضیلتیں حضرت خاتم الانبیاء کو جنابِ احدیت کی طرف سے ثابت ہیں اور