اور ؔ صاحب اس مرتبہ کا اخلاق الٰہیہ سے ایسا ہی بالطبع پیار کرتا ہے کہ جیسے وہ اخلاق حضرت احدیت میں محبوب ہیں اور محبت ذاتی حضرت خداوند کریم کی اِس قدر وہ لوگ حجت اور دلیل کے رو سے اپنے مخالفوں پر غالب رہیں گے۔ اور صدق اور راستی کے انوار ساطعہ اُنہیں کے شامل حال رہیں گے۔ اور سست مت ہو اور غم مت کرو۔ خدا تم پر بہت ہی مہربان ہے۔ خبردار ہو بہ تحقیق جو لوگ مقربانِ الٰہی ہوتےؔ ہیں ان پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم کرتے ہیں۔ تو اس حالت میں مرے گا کہ جب خدا تجھ پر راضی ہوگا۔ پس بہشت میں داخل ہو انشاء اللہ امن کے ساتھ تم پر سلام تم شرک سے پاک ہوگئے سو تم امن کے ساتھ بہشت میں داخل ہو تجھ پر سلام تو مبارک کیا گیا۔ خدا نے دعا سن لی وہ دعاؤں کو سنتا ہے تو دنیا اور آخرت میں مبارک ہے۔ یہ اس طرف اشارہ فرمایا کہ پہلے اس سے چند مرتبہ الہامی طور پر خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کی زبان پر یہ دعا جاری کی تھی کہ رب اجعلنی مبارکا حیث ما کنت۔ یعنی اے میرے رب مجھے ایسا مبارک کرکہ ہرجگہ میں بودوباش کروں برکت میرے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے اپنے لطف و احسان سے وہی دعا کہ جو آپ ہی فرمائی تھی قبول فرمائی۔ اور یہ عجیب بندہ نوازی ہے کہ اول آپ ہی الہامی طور پر زبان پر سوال جاری کرنا اور پھر یہ کہنا کہ یہ تیرا سوال منظور کیا گیا ہے اور اِس برکت کے بارہ میں ۸۶۸۱ء یا ۹۶۸۱ء میں بھی ایک عجیب الہام اردو میں ہوا تھا جس کو اِسی جگہ لکھنا مناسب ہے۔ اور تقریب اس الہام کی یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکتب بھی تھے۔ جب نئے نئے مولوی ہوکر بٹالہ میں آئے اور بٹالیوں کو ان کے خیالات گراں گزرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کرنے کے لئے اس ناچیز کو بہت مجبور کیا چنانچہ اُس کے کہنے کہانے سے یہ عاجز شام کے وقت اُس شخص