آیت میں تعلیم کی گئی ہے۔ جو ؔ فرمایا ہے۔ 33۔ یہ وہ مرتبہ ہے جس میں انسان کو خدا کی محبت اور اس کے غیر کی عداوت سرشت میں داخل ہوجاتی ہے۔ اور بطریق طبعیت اس میں قیام پکڑتی ہے ہرگز نہیں مانیں گے جب تک خدا کو بچشم خود دیکھ نہ لیں۔ سفیہ بجز ضربۂ ہلاکت کے کسی چیز کو باور نہیں کرتا میرا اور تیرا دشمن ہے۔ کہہ خدا کا امر آیا ہے سو تم جلدی مت کرو جب خدا کی مدد آئے گی تو کہا جائے گا کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں کہیں گے کہ کیوں نہیں۔ انی متوفیک ورافعک الی وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ ولا تھنوا ولا تحزنوا و کان اللّٰہ بکم رء وفًا رحیما۔ الا ان اولیاء اللّٰہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ تموت وانا راض منک فادخلوا الجنۃ ان شاء اللّٰہ اٰمنین۔ سلام علیکم طبتم فادخلوھا اٰمنین۔ سلام علیک جعلت مبارکا۔ سمع اللّٰہ انہ سمیع الدعاء انت مبارک فی الدنیا والاخرۃ۔ امراض الناس وبرکاتہ ان ربک فعال لما یرید۔ اذکر نعمتی التی انعمت علیک وانی فضلتک علی العلمین۔ یاایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃً فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی۔ منَّ ربکم علیکم و احسن الی احبابکم وعلمکم مالم تکونوا تعلمون۔ وان تعدوا نعمۃ اللّٰہ لا تحصوھا۔ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ اور جو لوگ تیری متابعت اختیار کریں یعنی حقیقی طور پر اللہ و رسول کے متبعین میں داخل ہو جائیں ان کو ان کے مخالفوں پر کہ جو انکاری ہیں۔ قیامت تک غلبہ بخشوں گا یعنی