میںؔ داخل نہیں ہوتی۔ بلکہ اس میں محفوظ ہوتی ہے۔
اور تیسری ترقی جو قربت کے میدانوں میں چلنے کے لئے انتہائی قدم ہے۔ اِس
میں مصروف ہیں ایک صفت رفق اور لطف اور احسان ہے اس کا نام جمال ہے۔ اور دوسری صفت قہر اور سختی ہے اس کا نام جلال ہے سو عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جو لوگ اُس کی درگاہ عالی میں بلائے جاتے ہیں ان کی تربیت کبھی جمالی صفت سے اور کبھی جلالی صفت سے ہوتی ہے اور جہاں حضرت احدیت کے تلطّفات عظیمہ مبذول ہوتے ہیں وہاں ہمیشہ صفت جمالی کے تجلیات کا غلبہ رہتا ہے مگر کبھی کبھی بندگانِ خاص کی صفاتِ جلالیہ سے بھی تادیب اور تربیت منظور ہوتی ہے۔ جیسے انبیاء کرام کے ساتھ بھی خدائے تعالیٰ کا یہی معاملہ رہا ہے کہ ہمیشہ صفات جمالیہ حضرت احدیّت کے ان کی تربیت میں مصروف رہے ہیں لیکن کبھی کبھی ان کی استقامت اور اخلاق فاضلہ کے ظاہر کرنے کے لئے جلالی صفتیں بھی ظاہر ہوتی رہی ہیں اور ان کو شریر لوگوں کے ہاتھ سے انواع اقسام کے دکھ ملتے رہے ہیں تا ان کے وہ اخلاق فاضلہ جو بغیر تکالیف شاقہ کے پیش آنے کے ظاہر نہیں ہوسکتے وہ سب ظاہر ہوجائیں اور دنیا کے لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ کچے نہیں ہیں بلکہ سچے وفادار ہیں۔ وقالوا انّٰی لک ھذا ان ھذا الا سحر یؤثر۔ لن نؤمن لک حتی نری اللّٰہ جھرۃ۔ لا یصدق السفیہ الا سیفۃ الھلاؔ ک۔ عدو لی و عدو لک قل اتی امر اللّٰہ فلا تستعجلوہ۔ اذا جاء نصراللّٰہ الست بربکم قالوا بلٰی۔ اور کہیں گے یہ تجھے کہاں سے حاصل ہوا۔ یہ تو ایک سحر ہے جو اختیار کیا جاتا ہے۔ ہم