کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ؔ اس درجہ یقین کامل تک پہنچتا ہے کہ گویا مدبر حقیقی کو بچشم خود دیکھتا ہے۔ سو اس طور کی اطلاع کامل جو اسرار سماوی میں اس کو بخشے جاتے ہیں۔ اس کا نام سیر فی اللہ ہے لیکن یہ وہ مرتبہ ہے جس میں محبت الٰہی انسان کو دی تو جاتی ہے لیکن بطریق طبعیت اس میں قائم نہیں کی جاتی یعنی اس کی سرشت
وضعنا عنک وزرک الذی انقض ظھرک ورفعنا لک ذکرک۔ انک علی صراط مستقیم۔ وجیھا فی الدنیا والاٰخرۃ و من المقربین۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری ہوئی ہے ہم نے تجھ کو معارف کثیرہ عطا فرمائے ہیں۔ سو اُس کے شکر میں نماز پڑھ اور قربانی دے اور میری یاد کے لئے نماز کو قائم کر۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ ہم نے تیرا وہ بوجھ جس نے تیری کمر توڑ دی اتار دیا ہے اور تیرے ذکر کو اونچا کردیا ہے۔ تو سیدھی راہ پر ہے۔ دنیا اور آخرت میں وجیہہ اور مقرّبین میں سے ہے۔ حماؔ ک اللّٰہ۔ نصرک اللّٰہ۔ رفع اللّٰہ حجّت الاسلام جمال۔ ھو الذی امشاکم فی کل حال۔ لا تحاط اسرار الاولیاء۔ خدا تیری حمایت کرے گا۔ خدا تجھ کو مدد دے گا۔ خدا حجتِ اسلام کو بلند کرے گا۔ جمالِ الٰہی ہے جس نے ہر حال میں تمہارا تنقیہ کیا ہے۔ خدائے تعالیٰ کو جو اپنے ولیوں میں اسرار ہیں وہ احاطہ سے باہر ہیں۔ کوئی کسی راہ سے اس کی طرف کھینچا جاتا ہے اور کوئی کسی راہ سے یعقوب* نے وہ مرتبہ گرفتاری سے پایا جو دوسرے ترک ماسوا سے پاتے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدائے تعالیٰ میں دو صفتیں ہیں جو تربیتِعباد