ہیں اور اس مرتبہ کا نام سیر فی اللہ ہے۔ کیونکہؔ اس مرتبہ میں ربوبیت کے عجائبات سالک پر کھولے جاتے ہیں اور جو ربانی نعمتیں دوسروں سے مخفی ہیں ان کا اس کو سیر کرایا جاتا ہے کشوف صادقہ سے متمتع ہوتا ہے اور مخاطبات حضرت احدیت سے سرفرازی پاتا ہے۔ اور عالم ثانی کے باریک بھیدوں سے مطلع کیا جاتا ہے اور علوم اور معارف سے وافر حصہ دیا جاتا ہے۔ غرض ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہت کچھ اس کو عطا لوگ اس کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت ہیں یعنی کفار ان کے سامنے لاجواب اور عاجز ہیں اور اُن کی حقانیت کی ہیبت کافروں کے دلوں پر مستولی ہے اور وہ لوگ آپس میں رحم کرتے ہیں وہ ایسے مرد ہیں کہ ان کو یادِ الٰہی سے نہ تجارت روک سکتی ہے اور نہ بیع مانع ہوتی ہے یعنی محبت الٰہیہ میں ایسا کمال تام رکھتے ہیں کہ دنیوی مشغولیاں گو کیسی ہی کثرت سے پیش آویں ان کے حال میں خلل انداز نہیں ہوسکتیں۔ خدائے تعالیٰ اُن کے برکات سے مسلمانوں کو متمتع کرے گا۔ سو اُن کا ظہور رحمت الٰہیہ کے آثار ہیں۔ سو ان آثار کو دیکھو۔ اور اگر ان لوگوں کی کوئی نظیر تمہارے پاس ہے یعنی اگر تمہارے ہم مشربوں اور ہم مذہبوں میں سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ جو اسی طرح تائیدات الٰہیہ سے مؤید ہوں۔ سو تم اگر سچے ہو تو ایسے لوگوں کو پیش کرو۔ اور جو شخص بجز دین اسلام کے کسی اَور دین کا خواہاں اور جویاں ہوگا وہ دین ہرگز اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور آخرت میں وہ زیان کاروں میں ہوگا۔ یا احمد فاضت الرحمۃ علی شفتیک انا اعطینک الکوثر فصل لربک وانحر۔ واقم الصلوۃ لذکری۔ انت معی وانا معک۔ سرک سری