سامنا معلوم ہوتا تھا مگر اب چاروں طرف سے انعام ہی انعام پاتا ہے اور اسی جہت سے اس کی حالت کے مناسب حال یہی تھا کہ اس کا نام منعم علیہ رکھا جاتا اور دوسرے لفظوں میں اس حالت کا ؔ نام بقا ہے کیونکہ سالک اس حالت میں اپنے تئیں ایسا پاتا ہے کہ گویا وہ مرا ہوا تھا اور اب زندہ ہوگیا۔ اور اپنے نفس میں بڑی تقدم من ذنبک وما تأخر۔ ہم نے تجھ کو کھلی کھلی فتح عطا فرمائی ہے یعنی عطا فرمائیں گے۔ اور درمیان میں جو بعض مکروہات و شدائد ہیں وہ اس لئے ہیں تا خدائے تعالیٰ تیرے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرماوے یعنی اگر خدائے تعالیٰ چاہتا تو قادر تھا کہ جو کام مدنظر ہے وہ بغیر پیش آنے کسی نوع کی تکلیف کے اپنے انجام کو پہنچ جاتا اور بآسانی فتح عظیم حاصل ہوجاتی۔ لیکن تکالیف اس جہت سے ہیں کہ تا وہ تکالیف موجب ترقی مراتب و مغفرت خطایا ہوں۔ آج اس موقع کے اثناء میں جبکہ یہ عاجز بغرض تصحیح کاپی کو دیکھ رہا تھا بعالم کشف چند ورق ہاتھ میں دیئے گئے اور اُن پر لکھا ہوا تھا کہ فتح کا نقارہ بجے۔ پھر ایک نے مسکرا کر ان ورقوں کی دوسری طرف ایک تصویر دکھلائی اور کہا کہ دیکھو کیا کہتی ہے تصویر تمہاری۔ جب اس عاجز نے دیکھا تو وہ اسی عاجز کی تصویر تھی اور سبز پوشاک تھی مگر نہایت رعبناک جیسے سپہ سالار مسلح فتح یاب ہوتے ہیں اور تصویر کے یمین و یسار میں ؔ حجت اللہ القادر و سلطان احمد مختار لکھا تھا۔ اور یہ سوموار کا روز انیسویں ذوالحجہ ۰۰۳۱ ؁ھ مطابق ۲۲؍ اکتوبر ۳۸ء ؁ اور ششم کاتک ۰۴۹۱ ؁بکرم ہے۔ الیس اللہ بکاف عبدہ فبرأہ اللّٰہ مما قالوا وکان عند اللّٰہ وجیھا۔ الیس اللّٰہ بکاف عبدہ فلما تجلّٰی ربہ للجبل جعلہ دکا۔ واللّٰہ