حیلہ اور تدبیر کو کچھ دخل نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے آتی ہے اور جب آتی ہے تو پھر سالک ایک دوسرا رنگ پکڑلیتا ہے اور تمام بوجھ اس کے سر سے اتارے جاتے ہیں اور ہریک ایلام انعام ہی معلوم ہوتاؔ ہے اور شکوہ اور شکایت کا نشان نہیں ہوتا۔ پس یہ حالت ایسی ہوتی ہے کہ گویا انسان بعد موت کے زندہ کیا گیا ہے کیونکہ ان تلخیوں سے بکلی نکل آتا ہے جو پہلے درجہ میں تھیں جن سے ہریک وقت موت کا لیعذبھم وھم یستغفرون۔ اے عبدالقادر میں تیرے ساتھ ہوں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ تیرے لئے میں نے رحمت اور قدرت کو اپنے ہاتھ سے لگایا اور تجھ کو غم سے نجات دی۔ اور تجھ کو خالص کیا۔ اور تم کو میری طرف سے مدد آئے گی۔ خبردار ہو لشکر خدا کا ہی غالب ہوتا ہے۔ اور خدا ایسا نہیں جو ان کو عذاب پہنچاوے جب تک تو اُن کے درمیان ہے یا جب وہ استغفار کریں۔ انا بدک اللازم انا محییک نفخت فیک من لدنی روح الصدق والقیت علیک محبۃ منی ولتصنع علی عینی کزرع اخرج شطأہ فاستغلظ فاستویؔ علٰی سوقہ۔ میں تیرا چارہ لازمی ہوں۔ میں تیرا زندہ کرنے والا ہوں۔ میں نے تجھ میں سچائی کی روح پھونکی ہے اور اپنی طرف سے تجھ میں محبت ڈال دی ہے تاکہ میرے روبرو تجھ سے نیکی کی جائے سو تو اس بیج کی طرح ہے جس نے اپنا سبزہ نکالا پھر موٹا ہوتا گیا یہاں تک کہ اپنے ساقوں پر قائم ہوگیا۔ ان آیات میں خدائے تعالیٰ کی اُن تائیدات اور احسانات کی طرف اشارہ ہے اور نیز اس عروج اور اقبال اور عزت اور عظمت کی خبر دی گئی ہے کہ جو آہستہ آہستہ اپنے کمال کو پہنچے گی۔ انا فتحنالک فتحا مبینا لیغفرلک اللّٰہ ما