نام منعم علیہم رکھا گیا ہے کہ وہ بباعث غلبہ محبت آلام کو برنگ انعام دیکھتے ہیں اور ہریک رنج یا راحت جو دوست حقیقی کی طرف سے اُن کو پہنچتی ہے بوجہؔ مستئ عشق اس سے لذت اٹھاتے ہیں پس یہ ترقی فی القرب کی دوسری قسم ہے جس میں اپنے محبوب کے جمیع افعال سے لذت آتی ہے اور جو کچھ اس کی طرف سے پہنچے انعام ہی انعام نظر آتا ہے اور اصل موجب اس حالت کا ایک محبت کامل اور تعلق صادق ہوتا ہے جو اپنے محبوب سے ہوجاتا ہے اور یہ ایک موہبت خاص ہوتی ہے جس میں
عنقریب وہ میرا راہ کھول دے گا۔ اے میرے خدا آسمان سے رحم اور مغفرت کر۔ میں مغلوب ہوں میری طرف سے مقابلہ کر۔ اے میرے خدا اے میرے خدا تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی آوس بباعث ُ سرعت ورود مشتبہ رہا ہے اور نہ اس کے کچھ معنے کھلے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔
اےؔ خالق ارض و سما برمن در رحمت کشا
دانی توآں دردِ مرا کز دیگراں پنہاں کنم
ازبس لطیفی دلبرا در ہررگ و تارم درا
تا چوں بخودیابم ترا دل خوشتر از بستاں کنم
ور سرکشی اے پاک خوجاں برکنم در ہجر تو
زانساں ہمی گریم کزویک عالمے گریاں کنم
خواہی بقہرم کن جدا خواہی بلطفم رونما
خواہی بکش یا کن رہا کے ترک آں داماں کنم
یہ سب اشارات مختص المقامات ہیں جن کی تشریح اس جگہ ضروری نہیں۔ یا عبدالقادر انی معک اسمع و ارٰی غرست لک بیدی رحمتی و قدرتی و نجیناک من الغم و فتناک فتونا۔ لیأتینکم منی ھدی۔ الا ان حزب اللّٰہ ھم الغالبون۔ وما کان اللّٰہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللّٰہ