میں تعلیم کیؔ گئی ہے جو فرمایا ہے صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۔ یعنی ہم کو ان لوگوں کا راہ دکھلا جن پر تیرا انعام اکرام ہے۔ اس جگہ واضح رہے کہ جو لوگ منعم علیہم ہیں اور خدا سے ظاہری و باطنی نعمتیں پاتے ہیں شدائد سے خالی نہیں ہیں بلکہ اس دارالابتلاء میں ایسی ایسی شدّتیں اور صعوبتیں ان کو پہنچتی ہیں کہ اگر وہ کسی دوسرے کو پہنچتیں تو مدد ایمانی اس کی منقطع ہوجاتی۔ لیکن اس جہت سے اُن کا اصلاح خلق کے لئے مقرر کیا یعنی جن کا مادہ ہی خبث ہے ان سے صلاحیت کی امید مت رکھ اور پھر فرمایا کہہ میں صرف تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں مجھ کو یہ وحی ہوتی ہے کہ بجز اللہ تعالیٰ کے اور کوئی تمہارا معبود نہیں وہی اکیلا معبود ہے جس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرنا نہیں چاہئے۔ اور تمام خیر اور بھلائی قرآنؔ میں ہے بجز اس کے اور کسی جگہ سے بھلائی نہیں مل سکتی اور قرآنی حقائق صرف انہیں لوگوں پر کھلتے ہیں جن کو خدائے تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف اور پاک کرتا ہے اور میں ایک عمر تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں کیا تم کو عقل نہیں۔ ہست فرقانِ مبارک از خدا طیب شجر نونہال و نیک بوو سایۂ دار و پُرزبر میوہ گر خواہی بیا زیر درخت میوہ دار گر خردمندی مجنباں بید را بہر ثمر ور نیاید باورت دروصف فرقان مجید حسن آں شاہد بپرس از شاہدان یا خود نگر وانکہ اونامد پأ تحقیق و درکین مبتلا ست آدمی ہرگز نباشد ہست او بدتر زِ خر قل ان ھدی اللّٰہ ھو الھدٰی وانّ معی ربّی سیھدین۔ ربّ اغفر وارحم من السمآء۔ ربّ انی مغلوب فانتصر۔ ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی آوس۔ کہہ ہدایت وہی ہے جو خدا کی ہدایت ہے اور میرے ساتھ میرا رب ہے