بابِ اوّل
اُن براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی
حقیّت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں
برھان اوّل۔ قال اللّٰہ تعالی3
ہیں جن میں بشری کوششوں کو کچھ دخل نہیں بلکہ خود خدائے تعالیٰ کی طرف سے عجائبات سماوی کی سیر کرانے کے لئے غیبی سواری اور آسمانی بُرّاق عطا ہوتا ہے۔
اور دوسری ترقی کہ جو قربت کے میدانوں میں چلنے کے لئے دوسرا قدم ہے اِس آیت
یعلم و انتم لا تعلمون۔ خدا تیرا بدلہ پورا دے گا اور تجھ سے راضی ہوگا اور تیرے اسم کو پورا کرے گا۔ اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو دوست رکھو اور اصل میں وہ تمہارے لئے بری ہو اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو بری سمجھو اور اصل میں وہ تمہارے لئے اچھی ہو۔ اور خدائے تعالیٰ عواقب امور کو جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ کنت کنزا مخفیا فاحببت ان اعرف۔ ان السموات والارض کانتا رتقا ففتقناھما۔ وان یتخذونک الا ھزوا۔ اھذا الذی بعث اللّٰہ۔ قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الھکم الہ واحد والخیر کلہ فی القراٰ ن لا یمسہ ؔ الا المطھرون۔ فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون۔ میں ایک خزانہ پوشیدہ تھا سو میں نے چاہا کہ شناخت کیا جاؤں آسمان اور زمین دونوں بند تھے سو ہم نے ان دونوں کو کھول دیا اور تیرے ساتھ ہنسی سے ہی پیش آئیں گے اور ٹھٹھا مار کر کہیں گے کیا یہی ہے جس کو خدا نے