اِنؔ تمہیدات کے بعد دلائل حقیت قرآن شریف کے لکھے جاتے ہیں۔ و نسئل اللّٰہ التوفیق والنصرۃ ھو نعم المولی ونعم النصیر۔ زیادہ تر کریم ہے کہ پھر اس کو یہ ؔ جلتا ہوا دوزخ دکھاوے۔ غرض یہ کامل استقامت وہ فنا ہے کہ جس سے کارخانہ وجود بندہ کو بکُلّی شکست پہنچتی ہے اور ہوا اور شہوت اور ارادت اور ہریک خود روی کے فعل سے بیکبارگی دستکش ہونا پڑتا ہے اور یہ مرتبہ سیر و سلوک کے مراتب میں سے وہ مرتبہ ہے جس میں انسانی کوششوں کا بہت کچھ دخل ہے اور بشری مجاہدات کی بخوبی پیش رفت ہے اور اسی حد تک اولیاء اللہ کی کوششیں اور سالکین ؔ کی محنتیں ختم ہوجاتی ہیں اور پھر بعد اس کے خاص مواہبِ سماوی حبا من اللہ العزیز الاکرم عطاءً ا غیر مجذوذ۔ اس جگہ فتنہ ہے۔ پس صبر کر جیسے اولوالعزم لوگوں نے صبر کیا ہے۔ خبردار ہو۔ یہ فتنہ خدا کی طرف سے ہے تا وہ ایسی محبت کرے جو کامل محبت ہے۔ اس خدا کی محبت جو نہایت عزت والا اور نہایت بزرگ ہے وہ بخشش جس کا کبھی انقطاع نہیں۔ شاتان تذبحان۔ وکل من علیھا فان۔ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ اور زمین پر کوئی ایسا نہیں جو مرنے سے بچ جائے گا یعنی ہریک کے لئے قضا و قدر درپیش ہے اور موت سے کسی کو خلاصی نہیں۔ کوئی چار روز پہلے اس دنیا کو چھوڑ گیا اور کوئی پیچھے اسے جاملا۔ ہمیں مرگ است کزیاران بپوشد روئے یاراں را بیکدم می کند وقت خزاں فصل بہاراں را ولا تھنوا ولا تحزنوا۔ الیس اللّٰہ بکاف عبدہ۔ الم تعلم ان اللّٰہ علی کل شیء قدیر۔ وجئنا بک علی ھؤلاء شھیدا۔ اور سست مت ہو اور غم مت کرو۔ کیا خدا اپنے بندہ کو کافی نہیں ہے۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اور خدا ان لوگوں پر تجھ کو گواہ لائے گا۔ اوفی اللّٰہ اجرک و یرضی عنک ربک و یتم اسمک و عسی ان تحبوا شیئا و ھو شر لکم و عسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم واللّٰہ