ولی سے کوئی امر خارق عادت ظاہر ہو تو اُس نبی متبوع کا معجزہ ہوگا۔ اب
اور ہریک طور کی کجی اور بے راہی سے نجات بخش۔ اور یہ کامل استقامت اور راست روی جس کو طلب کرنے کا حکم ہے نہایت سخت کام ہے اور اول دفعہ میں اس کا حملہ سالک پر ایک شیر ببر کی طرح ہے جس کے سامنے موت نظر آتی ہے پس اگر سالک ٹھہر گیا اور اُس موت کو قبول کرلیا تو پھر بعد اس کے کوئی اسے سخت موت نہیں اور خدا اِس سے
یرحمک۔ وان لم یعصمک الناس فیعصمک اللّٰہ من عندہ۔ یعصمک اللّٰہ من عندہ وان لم یعصمک الناس۔ خدائے تعالیٰ اپنی رحمت کا تجھ پر سایہ کرے گا اور نیز تیرا فریاد رس ہوگا اور تجھ پر رحم کرے گا۔ اور اگر تمام لوگ تیرے بچانے سے دریغ کریں مگر خدا تجھے بچائے گا اور خدا تجھے ضرور اپنی مدد سے بچائے گا اگرچہ تمام لوگ دریغ کریں۔ یعنی خدا تجھے آپ مدد دے گا اور تیری سعی کے ضائع ہونے سے تجھے محفوظ رکھے گا۔ اور اس کی تائیدیں تیرے شامل حال رہیں گی۔ و اذ یمکر بک الذی کفر۔ اوقد لی یاھامان لعلی اطلع الی الٰہ موسی وانی لأظنہ من الکاذبین۔ یاد کر جب منکر نے بغرض کسی مکر کے اپنے رفیق کو کہا کہ کسی فتنہ یا آزمائش کی آگ بھڑکاتا میں موسیٰ کے خدا پر یعنی اس شخص کے خدا پر مطلع ہوجاؤں کہ کیونکر وہ اس کی مدد کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہے یا نہیں۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ جھوٹا ہے۔ یہ کسی واقعہ آئندہ کی طرف اشارہ ہے کہ جو بصورت گزشتہ بیان کیا گیا ہے۔ تبت یدا ابی لھب وتب۔ ما کان لہ ان یدخل فیھا الا خائفا وما اصابک فمن اللّٰہ۔ ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ بھی ہلاک ہوا اور اس کو لائق نہ تھا کہ اس کام میں بجز خائفؔ اور ترسان ہونے کے یوں ہی دلیری سے داخل ہوجاتا اور جو تجھ کو پہنچے وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔ یہ کسی شخص کے شر کی طرف اشارہ ہے جو بذریعہ تحریر یا بذریعہ کسی اور فعل کے اس سے ظہور میں آوے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ الفتنۃ ھٰھنا فاصبر کما صبر اولو العزم۔ الا انھا فتنۃ من اللّٰہ لیحب حبا جما۔