ماسوا اس کے بعض لوگ اگر کچھ تھوڑا بہت دین کے معاملہ میں خرچ بھی کرتے ہیں تو ایک رسم کے پیرایہ میں نہ واقعی ضرورت کے انجام دینے کی نیت سے جیسے ایک کو مسجد بنواتے دیکھ کر دوسرا بھی جو اس کا حریف ہے خواہ نخواہ اس کے مقابلہ پر مسجد بنواتا ہے اور خواہ واقعی ضرورت ہو یا نہ ہو مگر ہزارہا روپیہ خرچ کرڈالتا ہے کسی کو یہ خیال پیدا نہیں ہوتا جو اس زمانہ میں سب سے مقدم اشاعت علم دین ہے اور نہیں سمجھتے کہ اگر لوگ دیندار ہی نہیں رہیں گے تو پھر ان مسجدوں میں کون نماز پڑھے گا صرف پتھروں کے مضبوط اور بلند میناروں سے دین کی مضبوطی اور بلندی چاہتے ہیں اور فقط سنگ مرمر کے خوبصورت قطعات سے دین کی خوبصورتی کے خواہاں ہیں لیکن جس روحانی مضبوطی اور بلندی اور خوبصورتی کو قرآن شریف پیش کرتا ہے اور جو3 ۱؂ کا مصداق ہے اس کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اور اس شجرہ طیبہ کے ظل ظلیل دکھلانے کی طرف ذرا متوجہ نہیں ہوتے۔ اور یہود کی طرح صرف ظواہر پرست بن رہے ہیں۔ نہ دینی فرائض کو اپنے محل پر ادا کرتے ہیں اور نہ ادا کرنا جانتے ہیں اور نہ جاننے کی کچھ پروا رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات قابل تسلیم ہے جو ہر سال میں ہماری قوم کے ہاتھ سے بے شمار روپیہ بنام نہاد خیرات و صدقات کے نکل جاتا ہے مگر افسوس جو اکثر لوگ ان میں سے نہیں جانتے کہ حقیقی نیکی کیا چیز ہے اور بذل اموال میں اصلح اور انسب طریقوں کو مدنظر نہیں رکھتے اور آنکھ بند کرکے بے موقع خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر جب ساراشوقِ دِلی اسی بے موقع خرچ کرنے میں تمام ہوجاتا ہے۔ تو موقعہ پر آکر اصلی فرض کے ادا کرنے سے بالکل قاصر رہ جاتے ہیں اور اپنے پہلے اسراف اور افراط کا تدارک بطور تفریط اور ترک ماوجب کے کرنا چاہتے ہیں یہ ان لوگوں کی سیرت ہے کہ جن میں روح کی سچائی سے قوت فیاضی اور نفع رسانی کی جوش نہیں مارتی بلکہ صرف اپنی ہی طمع خاص سے مثلاً بوڑھے ہوکر پیرانہ سالی