کے وقت میں آخرت کی تن آسانی کا ایک حیلہ سوچ کر مسجد بنوانے اور بہشت میں بنا بنایا گھر لینے کا لالچ پیدا ہوجاتا ہے اور حقیقی نیکی پر ان کی ہمدردی کا یہ حال ہے کہ اگر کشتی دین کی ان کی نظر کے سامنے ساری کی ساری ڈوب جائے یا تمام دین ایک دفعہ ہی تباہ ہوجائے تب بھی ان کے دل کو ذرا لرزہ نہیں آتا اور دین کے رہنے یا جانے کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے اگر درد ہے تو دنیا کا اگر فکر ہے تو دنیا کا اگر عشق ہے تو دنیا کا اگر سودا ہے تو دنیا کا اور پھر دنیا بھی جیسا کہ دوسری قوموں کو حاصل ہے حاصل نہیں ہریک شخص جو قوم کی اصلاح کے لئے کوشش کررہا ہے وہ ان لوگوں کی لاپروائی سے نالاں اور گریاں ہی نظر آتا ہے اور ہر یک طرف سے یاحسرتًا علی القوم کی ہی آواز آتی ہے اوروں کی کیا کہیں ہم آپ ہی سناتے ہیں۔
ہم نے صدہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براھین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا چونکہ یہ مخالفین پر فتح عظیم اور مومنین کے دل و جان کی مراد تھی اس لئے اُمراء اسلام کی عالی ہمتی پر بڑا بھروسا تھا جو وہ ایسی کتاب لاجواب کی بڑی قدر کریں گے اور جو مشکلات اس کی طبع میں پیش آرہی ہیں۔ ان کے دور کرنے میں بدل و جان متوجہ ہوجائیں گے مگر کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کیا تحریر میں لاویں اللّٰہ المستعان واللّٰہ خیر و ابقی!!
بعض صاحبوں نے قطع نظر اعانت سے ہم کو سخت تفکر اور تردد میں ڈال دیا ہے ہم نے پہلا حصہ جو چھپ چکا تھا اس میں سے قریب ایک سو پچاس جلد کے بڑے بڑے امیروں اور دولت مندوں اور رئیسوں کی خدمت میں بھیجی تھیں اور یہ امید کی گئی تھی جو امراء عالی قدر خریداری کتابؔ کی منظور فرما کر قیمت کتاب جو ایک ادنیٰ رقم ہے بطور پیشگی بھیج دیں گے اور ان کی اس طور کی اعانت سے دینی کام بآسانی پورا ہوجائے گا