اسبابِ ظاہری ۱؂ کہنا پڑا خدا نے بھی اپنے قانون تشریعی میں بہ تصدیق اپنے قانون قدرت کے ؂ کا حکم فرمایا۔ مگر افسوس جو مسلمانوں میں سے بہتوں نے اس اصولِ متبرک کو فراموش کردیا ہے اور ایسی اصل عظیم کو کہ جس پر ترقی اور اقبال دین کا سارا مدار تھا بالکل چھوڑ بیٹھے ہیں اور دوسری قومیں کہ جن کی الہامی کتابوں میں اس بارے میں کچھ تاکید بھی نہیں تھی وہ اپنی دلی تدبیر سے اپنے دین کی اشاعت کے شوق سے مضمون 3 پر عمل کرتی جاتی ہیں اور خیالاتِ مذہبی ان کے بباعث قومی تعاون کے روزبروز زیادہ سے زیادہ پھیلتے چلے جاتے ہیں آج کل عیسائیوں کی قوم کو ہی دیکھو جو اپنے دین کے پھیلانے میں کس قدر دلی جوش رکھتے ہیں اور کیا کچھ محنت اور جانفشانی کررہے ہیں لاکھ ہا روپیہ بلکہ کروڑہا انکا صرف تالیفات جدیدہ کے چھپوانے اور شائع کرنیکی غرض سے جمع رہتا ہے ایک متوسط دولتمند یورپ یا امریکہ کا اشاعت تعلیم انجیل کیلئے اس قدر روپیہ اپنی گرہ سے خرچ کردیتا ہے جو اہل اسلام کے اعلیٰ سے اعلیٰ دولت مند من حیث المجموع بھی اسکی برابری نہیں کرسکتے یوں تو مسلمانوں کا اس ملک ہندوستان میں ایک بڑا گروہ ہے اوربعض بعض متمول اور صاحب توفیق بھی ہیں مگر امور خیر کی بجاآوری میں (باستثنائے ایک جماعت قلیل اُمراء اور وُزراء اور عہدہ داروں کے) اکثر لوگ نہایت درجہ کے پست ہمت اور منقبض الخاطر اور تنگ دل ہیں کہ جن کے خیالات محض نفسانی خواہشوں میں محدود ہیں اور جن کے دماغ استغنا کے موادردیّہ سے متعفن ہورہے ہیں یہ لوگ دین اور ضروریات دین کو تو کچھ چیز ہی نہیں سمجھتے۔ ہاں ننگ و نام کے موقعہ پر سارا گھر بار لٹانے کو بھی حاضر ہیں۔ خالصاً دین کیلئے عالی ہمت مسلمان (جیسے ایک سیدنا ومخدؔ ومنا حضرت خلیفہ سید محمدحسن خان صاحب بہادر وزیراعظم پٹیالہ) اس قدر تھوڑے ہیں کہ جن کو انگلیوں پر بھی شمار کرنے کی حاجت نہیں۔