ہوں گے۔ وہ حقیقت میں اُس نبی متبوع کے فیوض ہیں۔ سوؔ اِسی جہت سے اگر
اور ثم انشاناہ خلقا اخر کا وقت آجاتا ہے اور چونکہ یہ فناء اتم بغیر نصرت و توفیق و توجہ خاص قادر مطلق کے ممکن نہیں اس لئے یہ دعا تعلیم کی یعنی اھدنا الصراطؔ المستقیم جس کے یہ معنے ہیں کہ اے خدا ہم کو راہِ راست پر قائم کر
پاک و برتر ہے جو وہ لوگ اس کی ذات پر لگاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بے امتحان کئے صرف زبانی ایمان کے دعویٰ سے چھوٹ جاویں گے۔ چاہتے ہیں جو ایسے کاموں سے تعریف کئے جائیں جن کو انہوں نے کیا نہیں۔ اور خدائے تعالیٰ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ اور جب تک وہ کسی شے کی اصلاح نہ کرے اصلاح نہیں ہوسکتی۔ اور جو شخص اس کے مطبع سے ردّ کیا جائے۔اسؔ کو کوئی واپس نہیں لاسکتا۔ لعلک باخع نفسک الا یکونوا مؤمنین۔ لا تقف ما لیس لک بہ علم۔ ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انھم مغرقون۔ یا ابراھیم اعرض عن ھذا انہ عبد غیر صالح۔ انما انت مذکر وما انت علیھم بمسیطر۔ کیا تو اسی غم میں اپنے تئیں ہلاک کردے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے مت پڑ اور ان لوگوں کے بارے میں جو ظالم ہیں میرے ساتھ مخاطبت مت کر۔ وہ غرق کئے جائیں گے۔ اے ابراہیم! اس سے کنارہ کر یہ صالح آدمی نہیں۔ تو صرف نصیحت دہندہ ہے ان پر داروغہ نہیں۔ یہ چند آیات جو بطور الہام القا ہوئی ہیں بعض خاص لوگوں کے حق میں ہیں۔ پھر آگے اس کے یہ الہام ہے واستعینوا بالصبر والصلٰوۃ واتخذوا من مقام ابراھیم مصلّٰی۔ اور صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ مدد چاہو۔ اور ابراہیم کے مقام سے نماز کی جگہ پکڑو۔ اس جگہ مقام ابراہیم سے اطلاقِ مرضیہ و معاملہ باللہ مراد ہے یعنی محبت الٰہیہ اور تفویض اور رضا اور وفا یہی حقیقی مقام ابراھیم کا ہے جو امت محمدیہ کو بطور تبعیت و وراثت عطا ہوتا ہے اور جو شخص قلب ابراہیم پر مخلوق ہے اس کی اتباع بھی اسی میں ہے۔ یظل ربک علیک و یغیثک و