بصدق دل قبول کرلیا ہے تو جو کچھ انوار وآثاؔ ر بعد متابعت کامل کے مترتب
اس فنا سے طیار ہوتا ہے۔ جوں جوں بندہ کا نفس شکست پکڑتا جاتا ہے اور اس کا فعل اور ارادت اور رو بخلق ہونا فنا ہوتا جاتا ہے توں توں پیدائش روحانی کے اعضاء بنتے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب فناء اتم حاصل ہوجاتی ہے تو وجود ثانی کی خلعت عطا کی جاتی ہے
الہام متذکرہ بالا میں اس عاجز کی تشبیہ حضرت موسیٰ سے دی گئی۔ اور یہ تمام برکات حضرت سید الرسل کے ہیں جو خداؔ وند کریم اس کی عاجز امت کو اپنے کمال لطف اور احسان سے ایسے ایسے مخاطبات شریفہ سے یاد فرماتا ہے۔ اللّٰھم صلّ علٰی محمد واٰ ل محمد۔ پھر بعد اس کے یہ الہامی عبارت ہے۔ واذا قیل لھم اٰمنوا کما اٰمن الناس قالوا انؤمن کما اٰمن السفھآء الا انھم ھم السفھآء ولکن لا یعلمون۔ و یحبون ان تدھنون۔ قل یایھا الکفرون لا اعبد ما تعبدون۔ قیل ارجعوا الی اللہ فلا ترجعون۔ وقیل استحوذوا فلا تستحوذون۔ ام تسئلھم من خرج فھم من مغرم مثقلون۔ بل اتیناھم بالحق فھم للحق کارھون۔ سبحانہ وتعالٰی عما یصفون۔ احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا اٰمنا وھم لا یفتنون۔ یحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا۔ ولا یخفی علی اللّٰہ خافیۃ۔ ولا یصلح شیء قبل اصلاحہ۔ ومن رُدّ من مطبعہ فلا مردلہ۔ اور جب اُن کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں۔ تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ہی ایمان لاویں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں خبردار ہو وہی بے وقوف ہیں مگر جانتے نہیں۔ اور یہ چاہتے ہیں کہ تم ان سے مداہنہ کرو۔ کہہ اے کافرو میں اس چیز کی پرستش نہیں کرتا جس کی تم کرتے ہو۔ تم کو کہا گیا کہ خدا کی طرف رجوع کرو سو تم رجوع نہیں کرتے۔ اور تم کو کہا گیا جو تم اپنے نفسوں پر غالب آجاؤ سو تم غالب نہیں آتے۔ کیا تو ان لوگوں سے کچھ مزدوری مانگتا ہے۔ پس وہ اس تاوان کی وجہ سے حق کو قبول کرنا ایک پہاڑ سمجھتے ہیں بلکہ ان کو مفت حق دیا جاتا ہے اور وہ حق سے کراہت کررہے ہیں۔ خدائے تعالیٰ اُن عیبوں سے